ارشاد فرمایا:'' پھر کس چیز نے تمہیں پہلی صف اور تکبیر اولیٰ سے دور کردیا ،کیا حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی محبت نے تمہیں مشغول کردیا تھا ؟'' عرض کی :'' ان کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیسے رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :'' پھر کس چیز نے تمہیں روکے رکھا ؟'' عرض کیا کہ ''جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی تھی میں اس وقت مسجد ہی میں تھا اور دو رکعتیں ا دا کی تھیں پھر جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی تو میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تکبیرِ اُولیٰ میں شامل ہوا ۔پھر مجھے وضو میں شبہ ہوا تو میں مسجد سے نکل کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر چلا گیا اور جا کر حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کو پکارا مگر کسی نے میری پکار کا جواب نہ دیا تو میری حالت اس عورت کی طرح ہوگئی جس کا بچہ گم ہوجاتا ہے یا ہانڈی میں ابلنے والے دانے جیسی ہوگئی ۔میں پانی تلاش کررہا تھا کہ مجھے اپنے دائیں جانب ایک آواز سنائی دی اور سبز رومال سے ڈھکا ہوا سونے کا پیالہ میرے سامنے آگیا۔ میں نے رومال ہٹایا تو اس میں دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم پانی موجود تھا۔ میں نے نماز کے لئے وضوکیا پھر رومال سے تری صاف کی اور پیالے کو ڈھانپ دیا ۔پھرمیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا نہ ہی مجھے یہ معلوم ہوسکا کہ پیالہ کس نے رکھا اور کس نے اٹھایا ؟''
اللہ کے محبوب، دَانائے غیُوب، مُنزہٌ عن کل عُیُوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے تبسم فرماکر ارشا دفرمایا:'' مرحبا! مرحبا! اے ابو الحسن !کیا تم جانتے ہو :'' تمہیں پانی کا پیالہ اور رومال کس نے دیا تھا؟'' عرض کی :'' اللہ اور اس کے رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے ہیں ۔''ارشاد فرمایا:'' پیالہ تمہارے پاس