Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
220 - 303
فَمَنْ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقْرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمْ وَ لَا یُظْلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿71﴾وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿72﴾
ترجمۂ کنزالایمان:توجواپنانامہ(اعمال) داہنے ہاتھ میں دیا گیایہ لوگ اپنانامہ(اعمال) پڑھیں گے اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گا۔اور جو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اور بھی زیادہ گمراہ۔(پ15،الاسراء:71۔72)

حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے محبت :

    حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ''ایک دن سرکارِ مدینہ قرارِقلب وسینہ ،صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول ِسکینہ ،فیضِ گنجینہ ،شہنشاہِ ِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی تو پہلا رکوع اتنا طویل فرمایا کہ ہمیں گمان ہوا کہ شاید رکوع سے سر نہ اٹھائیں گے ۔پھر جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تب ہم نے بھی رکوع سے سر اٹھالیا ۔ نماز ادا فرما لینے کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخِ اَنور محراب سے ایک جانب پھیر کر فرمایا کہ ''میرا بھائی اور چچا زاد علی بن ابو طالب کہاں ہے ؟'' حضرتِ سَیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخری صفوں سے عرض کیا :'' لبیک ! میں حاضر ہوں یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''اے ابو الحسن ! میرے قریب آجاؤ ۔'' چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آکر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:'' ابو الحسن ! کیا تم نے اگلی صف کے وہ فضائل نہیں سنے جو اللہ عزوجل نے مجھے بیان فرمائے ہیں ؟'' عرض کیا:'' کیوں نہیں، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !''
Flag Counter