Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
218 - 303
سبقت لے جانا چاہتے ہیں ۔اس تگ ودو میں کسی کی آہیں نکل جاتی ہیں ، کوئی مدہوش ہوجاتا ہے ،کوئی شوق میں دیوانہ ہوکر محبت میں متحیّر ہوا جاتا ہے ، کسی پر وجد غالب آجاتا ہے تو وہ پیاس کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر پڑتا ہے ۔خوف نے ان کو بے حال اور شب بیداری نے لا غر کر رکھا ہے ۔ ہر د ن انہیں نئی بے چینی لاحق ہوتی ہے۔ خدا عزوجل کی یاد نے ان سے وطن چھڑا دیا ہے ۔یہ لوگ تلاو تِ قرآن کرتے وقت اس میں غور کرتے ہیں ۔ جب یہ توکل کے درجات پر فائز ہوئے تو ان کی کمر جھک گئی ، خواہشاتِ نفسانی کو بیچ کر یہ تقدیر کے فیصلے پر راضی ہوگئے۔خوش آمدید ایسے بہادروں کو جن کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں اور جو غمگین لہجے میں قرآن پڑھتے ہیں جب خوف ان پر غالب ہوا تو یہ جہنم کے خوف سے بے ہوش ہوگئے۔

     ان میں سے بعض نے خالص جامِ محبت پیا تو ان کی فکر میں اضافہ ہوگیا ۔ اور کچھ کا شوق بڑھا تو انہوں نے شوق کے بہت سے روپ دیکھے ۔بہت سوں نے اپنے گھر ویران کرلئے اور بہت سے اولاد سے دور ہوگئے۔ تم ان کو جنگلات اور ویرانوں میں مدہوشی کے عالم میں پاؤ گے ۔ان کے دل خوف سے پرُ ہوں گے جبکہ ظاہر غم و الم سے معمور ہوگا او روہ زبانِ حال سے کہتے ہوں گے کہ'' ہمیں زندگی کا نہ کوئی غم ہے نہ کبھی ہوگا ۔''اللہ عزوجل نے ان کے لئے حجابات اٹھا دئیے اور ان کے سروں پر ولایت کا تاج سجا دیا اوران کی مجلسوں کو جلوۂ حق کی خوشبو سے معطر کردیا ۔

    اے فقراء کی جماعت ! بارگاہِ اُلفت میں حاضری دینے میں سبقت کرو اور ان لوگوں کی قربت اختیار کر لو، ان کی گفتگو سے سرور حاصل کرو ان کے مختلف احوال کا مشاہدہ کرو دنیا ہی میں محبوب کا جلوہ پا لو گے ۔