پیارے اسلامی بھائیو!
تو بہ کرنے والے تنہائی پانے کے لئے ویران مقامات کی طرف اس طر ح بھاگتے ہیں جس طر ح خوفزدہ انسان دارالامان (یعنی امن والی جگہ)کی طرف بھاگتا ہے۔ یہ لوگ وقتِ سحری میں آنسو بہا کر سکون حاصل کرتے ہیں ۔سجدو ں نے ان کی پیشانیوں پر نشانِ معرفت کھینچ دئیے۔یہ لوگ ساری ساری رات عبادت میں مصروف رہتے ہیں پھر جب سحر پھوٹتی ہے تو ان کی آنکھوں سے اشکوں کے دھارے بہہ نکلتے ہیں ۔پھر جب طلوعِ فجر ہوتی ہے تو یہ مشاہدات میں کھو جاتے ہیں اور اللہ عزوجل کی بڑائی بیان کرتے ہیں۔
میں ان چمکتے ستاروں، پختہ ارادے رکھنے والوں اور جوانوں پر قربان جاؤں۔ (یہ ہمیں صدا دیتے ہیں کہ)تنہائی اختیار کرو، آخرت میں ہم تمہارے پڑوسی بنیں گے۔ ہم نے مال و اسباب ، بیوی بچے اور وطن چھوڑ دئیے، نفسانی خواہشات چھوڑ دی ہیں۔ ہم نے فانی دنیا ویران کردی ہے، اب یہ ایک عرصہ سے ہماری تلاش میں ہے مگر ہم نے اسے ایسی طلاق دے دی ہے جس میں رجوع ممکن نہیں ۔ گھر اور گھر والوں کو خود سے جدا کردیا اور محبتِ خداوندی عزوجل کاجام پی لیا۔ کاش ! ہمیں اس کے کچھ گھونٹ اور مل جائیں ۔
یہ حضرات دن میں روزہ رکھتے ہیں، دل کو تقویٰ سے آباد رکھتے ہیں اور زبان کو ذکر سے معمور رکھتے ہیں ۔ اللہ عزوجل کا قرب پانے کے لئے ایک دوسرے سے