| آنسوؤں کا دریا |
جگہ پر لگا دیا تو وہ آنکھ پہلے سے بہتر اور خوبصورت ہوگئی اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ان کے لئے جنت کی دعا فرمائی۔
جب ان کے بیٹے حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس حاضر ہوئے تو حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا اے جوان ! تم کون ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا:اَنَا ابْنُ الَّذِیْ سَالَتْ عَلٰی الْخَدِّعَیْنُہُ فَرُدَّتْ بِکَفِّ الْمُصْطَفٰی اَحْسَنَ الرَّدِّ فَعَا دَتْ کَمَا کَانَتْ بِاَحْسَنِ حَالِھَا فَیَا حُسْنَ مَاعَیْنِ وَیَا حُسْنَ مَارَدِّ
ترجمہ:(۱)میں اس صاحب کافرزندہوں جن کی آنکھ رخسارپر بہہ گئی تودستِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بہترین اندازسے اس کے مقام پرلوٹادیا۔
(۲) پس وہ آنکھ پہلے سے کہیں زیادہ اچھی حالت میں آگئی ،پس یہ آنکھ اورآنکھ لوٹانے والے کیاہی خوب تھے۔
تو حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللہ القدیرنے فرمایا :''وسیلہ کے ذریعے ہم تک پہنچنے والوں کو چاہے کہ انہی جیسے لوگو ں کے وسیلہ سے آیا کریں ۔''(الاستیعاب قتادۃ بن النعمان، باب حرف القاف ، ج ۳ ، ص ۳۳۸)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)