میرے ساتھ چلنا پسند فرمائیں گے، ہم یہیں آپ کے برابر نہر کے کنارے ٹھہرے ہوئے ہیں ؟''اس شخص نے کہا : ''وہ کیوں ؟'' میں نے کہا :''اس لئے کہ آپ کچھ کھانا وغیرہ کھالیں اور ہم آپ کی خدمت میں کچھ ایسی چیز یں پیش کریں جو آپ کو چٹائی میں لپٹنے سے بے نیاز کردیں۔'' اس نے کہا :''مجھے ان چیز وں کی حاجت نہیں۔'' یہ کہہ کر اس نے میرے ساتھ چلنے سے انکار کردیا اور میں واپس لوٹ آیا ۔ (اس کی باتیں سننے کے بعد)میرے نزدیک اپنے آپ کی کوئی حیثیت نہ رہی ۔ میں نے (اپنے دل میں)کہا :'' میں نے دمشق میں اپنے سے زیادہ مالدار کوئی نہیں دیکھا پھر بھی میں مزید کی تلاش میں ہوں۔''پھر میں نے بارگاہِ خداوندی عزوجل میں عرض کی : ''اے اللہ عزوجل ! میں تیری بارگاہ میں اپنے اس حال سے تو بہ کرتا ہوں ۔''یوں میں نے توبہ کرلی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔
جب صبح ہوئی تولوگوں نے سفر کی تیاری شروع کی اور میری سواری میرے پاس لے آئے تومیں نے یہ سوچ کراس کا رخ دمشق کی جانب پھیر دیا کہ اگر میں دوبارہ تجارت میں مصروف ہوگیا تومیں تو بہ میں سچا نہیں۔ میری قوم نے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تومیں نے انہیں اپنی تو بہ کے بارے میں بتادیا ،انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے اصرار کیا مگر میں نے انکار کردیا۔
راوی کہتے ہیں کہ دمشق پہنچنے کے بعداس شخص نے اپنا مال راہِ خدا عزوجل میں صدقہ کردیا اور عبادت میں مصروف ہوگیا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے پاس کفن کی قیمت کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)