Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
211 - 303
    حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :'' اے ابو الحسن ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں کتنی ذہانت عطافرمائی ہے، بے شک تم نے میرا ایک بہت بڑا مسئلہ حل کردیاہے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
ایک تاجر کی توبہ:
     اِہل دمشق میں سے ایک شخص تھاجس کا نام ابوعبدالرب تھااور وہ پورے دمشق میں سب سے زیادہ مالدار تھا۔ ایک مرتبہ وہ سفر پر نکلاتو اسے ایک نہر کے کنارے کسی چراگاہ میں رات ہوگئی چنانچہ اس نے وہیں پڑا ؤ ڈال دیا۔ اسے چراگاہ کی ایک جانب سے ایک آواز سنائی دی کہ کوئی کثرت سے اللہ عزوجل کی تعریف کررہاتھا ۔وہ شخص اس آواز کی تلاش میں نکلا تو دیکھا کہ ایک شخص چٹا ئی میں لپٹا ہوا ہے۔ اس نے اس شخص کوسلام کیا اور اس سے پوچھا کہ ''تم کون ہو؟'' تو اس شخص نے کہا: ''ایک مسلمان ہوں۔'' اس دمشقی نے اس سے پوچھا :''یہ کیا حالت بنارکھی ہے ۔'' تو اس نے جواب دیا :''یہ نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنا مجھ پر واجب ہے۔'' دمشقی نے کہا:''تم چٹائی میں لپٹے ہوئے ہو یہ کونسی نعمت ہے؟'' اس نے کہا :''اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا فرمایا تو میری تخلیق کواچھا کیا اور میری پیدائش وپرورش کو اسلام میں رکھا اور میرے اعضاء کو تندرست کیا اور جن چیزوں کا ذکر مجھے ناپسندہے انہیں چھپایا تو جو میری طر ح شام کرتاہو اس سے بڑھ کر نعمت میں کون ہوگا َ؟'' 

    وہ دمشقی کہتا ہے کہ میں نے ان سے کہا: ''اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، آپ
Flag Counter