Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
210 - 303
یعنی صحابیت کا خیال آیا تو رُک گئے ۔اسی اثناء میں حضرتِ سَیِّدُنا علی المر تضی کرم اللہ وجہہ الکریم وہاں سے گزر ے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ پر غضب کے آثار ملاحظہ فرمائے تو پوچھا:'' اے امیر المؤمنین! آپ کو کس بات نے غضبناک کیا ہے ؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پورا قصہ سنادیاتو مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے کہا:'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا قول کہ''میں فتنے سے محبت کرتاہوں ۔''اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تاویل ہے :
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ (آزمائش ) ہی ہیں ۔(پ28،التغابن:15)

اور ان کے اس قول کہ'' میں حق کو ناپسند کرتا ہوں۔'' میں حق سے مراد موت ہے جس سے کسی کو چارہ نہیں اورنہ کوئی اس سے بچ سکتاہے او را ن کے اس قول کہ'' وہ بات کہتا ہوں جو پیدا نہیں کی گئی''سے مراد قرآن پاک ہے کہ یہ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن مخلوق نہیں اور ان کے ا س قول کہ'' اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں''کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی تصدیق کرتاہوں حالانکہ اسے دیکھا نہیں اور ان کے ا س قول کہ'' بغیر وضو صلوٰۃ پڑھتا ہوں ۔''کامطلب یہ ہے کہ یہ نبی مکرَّم ،نورِ مجسّم،رَسُول ِاکرم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر بغیر وضو کے درودِپاک پڑھتے ہیں ،ان کے ا س قول کہ'' میرے پاس زمین پر ایسی چیز ہے جو اللہ عزوجل کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے۔'' سے مراد بیوی اور بچے ہیں کیونکہ اللہ عزوجل کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں۔
Flag Counter