Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
209 - 303
چنداشعار
          عَمِلْتُ عَلٰی الْقَبَائِحِ فِیْ شَبَابِیْ	فَلَمَّا شِبْتُ  عُدْتُّ  اِلٰی  الرِّیَاءِ

فَلَا حِیْنَ الشَّبَابِ حَفِظْتُ دِینِیْ 	     وَلَا حِیْنَ الْمَشِیْبِ طَبَبْتُ دَائِیْ

فَشَابٌّ      عِنْدَ  مَصْغَرِہِ   غَوِیٌّ 	        وَشَیْخٌ    عِنْدَ     مَکْبَرِہِ   مُرَائِیْ

قَضَاءٌ   سَابِقٌ   فِیْ   عِلْمِ  غَیْبٍ 	        فَیَا    لِلّٰہِ     مِنْ   سُوْءِ   الْقَضَاءِ
ترجمہ:(۱)میں جوانی میں گناہوں میں لگارہا ،جب بڑھاپاطاری ہواتو ریامیں پڑگیا۔

    (۲)نہ تو جوانی کے عالَم میں اپنے دین کی حفا ظت کرسکا اور نہ ہی بڑھاپے میں مرضِ گناہ کا علاج کرسکا۔

    (۳)میں وہ جوان ہوں جونوعمری میں گمراہ ہوگیااوروہ بوڑھاہوں جوبڑھاپے میں ریاکاربن گیا۔

    (۴)پردہ غیب میں تقدیر کافیصلہ ہوچکا،اے اللہ عزوجل !میں بری تقدیرسے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حکمت بھرا جواب:
    امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانهٔ خلافت میں حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے فرمایا:'' اے حذیفہ ! تم نے صبح کیسے کی ؟'' عر ض کی:'' اے امیرالمؤمنین! میں نے اس طرح صبح کی کہ فتنے سے محبت کرتا ہو ں اور حق کو ناپسند کرتا ہوں اور وہ کہتا ہوں جو پیدا نہیں ہوا اور اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں اور بغیر وضو کے صلوٰۃ پڑھتا ہوں اور میرے پاس زمین پرایک ایسی چیز ہے جو اللہ عزوجل کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے۔'' تو سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات پر شدید غضبناک ہوگئے اور ان کی گرفت کا ارادہ فرمایا مگرپھر ان کی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحبت
Flag Counter