Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
205 - 303
کے کنوئیں پر پہنچا تو دیکھا کہ یہ بزرگ اپنے چہرے پر کپڑا لٹکائے تشریف لارہے ہیں۔ کنوئیں پر پہنچ کر انہوں نے آب زمزم نکالا اور پینے لگے تو میں ان کا جوٹھا حاصل کرنے کے لئے لپکا۔ جب میں نے اسے پیا تو وہ شہد ملاپانی تھا، میں نے اس سے اچھا پانی کبھی نہیں پیا۔ پانی پینے کے بعد جب میں نے ان سے ملنا چاہا تو وہ تشریف لے جاچکے تھے۔ اگلی رات جب سحری کا وقت ہوا تومیں پھر زمزم کے کنوئیں پرحاضر ہوا اور دیکھا کہ وہ بزرگ بھی مسجد کے دروازے سے اپنے چہرے پر کپڑا ڈالے تشریف لارہے ہیں۔ وہ ایک بار پھر کنویں پر آئے اور پانی نکال کر پینے لگے ۔میں ان کا جوٹھا پینے کے لئے آگے بڑھا تو اسے لذیذ اور بہترین ستو پایا۔ جب تیسری رات آئی تب بھی وہ تشریف لائے اور پانی نکالنے لگے ۔میں نے ان کی اوڑھی ہوئی چادر اپنے ہاتھ پرلپیٹ لی اور جب میں نے ان کا بچا ہو زمزم پیا تو دیکھا کہ وہ شکر ملا دودھ ہے، میں نے اس جیسی لذیذ شئے کبھی نہ پی تھی ۔ میں نے ان سے التجاکی: ''اے شیخ ! آپ کو اس بیت الحرام کے حق کا واسطہ ! بتائیے آپ کون ہیں ؟'' فرمایا :'' میری بات راز میں رکھو گے؟'' میں نے کہا:''جی ہاں ۔'' فرمایا:'' میں سفیان ثوری ہوں۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

    یہ پاکیزہ ہستیاں اللہ عزوجل ہی کی عبادت کرتی ہیں ۔ اِنہوں نے خود کو محبتِ الٰہی عزوجل میں فنا کردیااور وہ ہر وقت اسی کے مشتاق رہتے ہیں۔اس نے دنیاکی بادشاہی کو ان کے پاؤں کی زنجیر بننے سے روک دیا اوران پر غیرت فرماتے ہوئے انہیں غیرو ں سے چھپالیا اور انہیں تسلیم ورضاکی سند عطا فرمائی اور مشروبِ الہام پلایا۔