Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
203 - 303
    (۱۱)کیاچچااورماموں کی زمانے کے ہاتھوں ہلاکت میں میرے لئے کوئی عبرت نہیں ہے ؟ 

    (۱۲)(مجھے سمجھناچاہے)گویا میرے بعدمیری عورتیں کھڑی کی کھڑی رہ گئیں اورمیرا جنازہ لوگوں کے کندھوں پرہے۔

    (۱۳)مجھے جلدی جلدی(قبر کی طر ف)لے جارہے ہیں اورمیں نہیں جانتامیراٹھکانا جنت ہوگایادو زخ ۔

    (۱۴)بے شک ہم میں سے ہرایک فناہوجائے گا، فقط میرارب اللہ ذوالجلال باقی رہے گا۔
عاجزی:
    حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایک شاگر د کا بیان ہے، ایک مرتبہ میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے پوچھا: ''کیسے آنا ہوا؟'' میں نے عرض کی : ''زیارت کے لئے حاضر ہوا ہوں ۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : تم مجھ سے ملنے آئے یہ اچھی بات ہے مگر یہ تودیکھو کہ تمہارا یہ کام میرے لئے کتنا نقصان دہ ہے جب مجھ سے یہ کہا جائے گا :'' تُو کون ہوتا ہے کہ تیری زیارت کی جاتی ،کیاتُو عبادت گزار تھا ؟کیا تُو دنیا میں زہدا ختیار کرنے والو ں میں سے تھا ؟ '' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے نفس کوڈانٹتے ہوئے فرمانے لگے : ''جوانی میں تو تُوبدکار تھا،اُدھیڑ عمری میں دھوکے باز ہوگیا اور جب بوڑھاہو اتو ریاکار بن گیا، خداعزوجل کی قسم! ریاکار فاسق سے بھی بدتر ہے۔'' پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دعا مانگنے لگے :'' اے زمین وآسمان کے خدا عزوجل! اپنی طرف سے مجھے ایسی رحمت عطا فرماجو میری جوانی کی اصلاح کردے اور مجھے ہر برائی سے بچالے اور صالحین کے بلند مقامات میں میرا ٹھکانابلند کردے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
Flag Counter