Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
202 - 303
سَاَقْنَعُ   مَاحَیِیْتُ  بِشَطْرِ بُرٍّ 		اُشَیِّعُہُ    بِریٍّ  مِنْ    زُلَالِ

اِذَا کَانَ المَصِیْرُ اِلٰی ھَلَاکٍ		فَمَا لِیْ  وَالتَّنَعُّمُ ثُمَّ مَا لِیْ ؟

اَمَّالِیْ   عِبْرَۃٌ  فِیْمَنْ   تُفَانِیْ		عَلٰی الْاَیَّامِ  مِنْ  عَمٍّ وَّخَالِ

کَاَنَّ بِنِسْوَتِیْ قَدْ قُمْنَ خَلْفِیْ 		وَنَعْشِیْ فَوْقَ اَعْنَاقِ الرِّجَالِ

یُعَجِّلْنَ الْمَسِیْرَ وَلَسْتُ اَدْرِیْ		لِدَارِ  الْفَوْزِ   اَمْ   دَارِ النَّکَالِ

یَبِیْدُ   الْکُلُّ  مِنَّا دُوْنَ  شَکٍّ 		وَیَبْقٰی  اللہُ  رَبِّیْ ذُوْالْجَلَالِ
ترجمہ:(۱)راتیں کسی کام کی وجہ سے بدلانہیں کرتیں،پھربھی تُوبے کارکاموں میں مشغول ہے اورتجھے اس کی پرواہ بھی نہیں۔

    (۲)تُوآسودہ زندگی میں،رات نعمتوں میں گزارتاہے اور نفسانی خواہشات میں مطمئن ہوکرصبح کرتاہے ۔

    (۳)پہاڑوں کی مثل تیرے کندھوں پرموجودگناہوں کابوجھ کیا تجھے نظرنہیں آتا۔

    (۴)جوچاہتاہے، کمارہاہے اوراس چیزکی پرواہ نہیں کرتایہ حرام سے ہے یا حلال سے۔ 

    (۵) اگرتُو دنیا میں صاحبِ نظرہوگا تو اپنے نفس کو گمراہی کے راستوں سے بچالے گا۔

    (۶)سنو! سیدی حضرت ابو خلیل علیہ رحمۃ اللہ الجلیل لمبی رات بھی سات بڑی سورتیں پڑھنے میں گزاردیاکرتے تھے ۔ 

    (۷)( ان سورتوں کو)پڑھتے وقت ان کادل مضطرب اورآنکھیں اَشکبارہوتی تھیں۔

    (۸)میں دیکھ رہاہوں کہ ایامِ زندگی ہمیں لمحہ بہ لمحہ تیزی کے ساتھ قبرو ں کی طر ف منتقل کررہے ہیں۔

    (۹)گندم کی جس مقدارسے زندگی باقی رہے میں اس پرقناعت کرکے اسے عمدہ پانی سے نرم کرلوں گا۔

(۱۰)جب بالآخرمرناہی ہے تومیرااورعیش وعشرت والی زندگی کاکیاواسطہ ؟
Flag Counter