| آنسوؤں کا دریا |
اسی طرح حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم ایک مرتبہ سمند ر میں سفر فرمارہے تھے کہ طُوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔مگر حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم (تکئے پر)سر رکھ کر سوگئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھی کہنے لگے :''کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کتنی شدیدآزمائش میں ہیں ۔'' فرمایا :''کیا یہ شدت ہے ؟ ''ساتھیوں نے عرض کیا:''' جی ہاں !'' فرمایا:'' یہ شدت نہیں بلکہ شدت تو لوگوں کا محتاج ہوناہے ۔'' پھر عر ض کیا:''یا الٰہی عزوجل! تو نے اپنی قدرت تو ہمیں دکھادی، اب ہمیں اپنا کرم بھی دکھا دے تو سارا سمندر زیتون کے پیالے کی طر ح (ساکن)ہوگیا۔ ''
(حلیۃ الاولیاء ، ،۳۹۴ ابراہیم بن ادھم ، رقم ۱۱۱۸۵،ج ۸ ،ص ۵بتغیرما)
انہی کے بارے میں ہے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے رفقاء کے ساتھ کسی راستے سے گزررہے تھے کہ ایک شیرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھیوں کے سامنے آگیا۔ انہوں نے گھبرا کر آپ سے عرض کیا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شیر سے مخاطب ہوکر فرمایا: ''اے شیر ! اگر تجھے ہمارے بارے میں کوئی حکم ملاہے تو اس حکم پر عمل کر' ورنہ ہمارا راستہ چھوڑدے۔'' تو وہ شیر اپنی دم ہلانے لگا اور پھر وہاں سے بھاگ کھڑا ہو۔آپ کے رفقاء یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔
(حلیۃ الاولیاء ، ابراہیم بن ادھم ،رقم ۱۱۱۸۲،ج ۸ ، ص ۵بتصرفٍ)
چاہیں تواشاروں سے اپنے کایاہی پلٹ دیں دنیاکی یہ شان ہے خدمت گاروں کی سرکار اکاعالم کیاہوگا
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)