ترجمہ:میرے شدتِ شو ق نے آنکھوں سے نیندکودورکردیا،اے موت عطافرمانے والے! تجھ سے ملاقات کب نصیب ہوگی ۔
میں نے انہیں سلام کیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا: ''کیا تم یزید بن حباب نہیں ہو؟ ''میں نے کہا:'' جی ہاں مگر آپ نے کیسے پہچانا۔'' تو فرمایا:'' میں نے مخفی اسرار کی معرفت سے تعلق رکھا تو ملکِ جبّار کے بتانے سے میں نے تمہیں پہچان لیا۔'' پھر فرمایا :''میں تم سے ایک سوال پوچھتی ہوں۔''میں نے کہا : '' پوچھیں۔''تو فرمایا:'' سخاوت کیاہے ۔''میں نے کہا :''خرچ کرنا اور بانٹنا ۔' ' فرمایا: ''یہ تو دنیوی سخاوت ہے دینی سخاوت کیا ہے ؟'' میں نے کہا :''اللہ عزوجل کی اطاعت میں جلدی کرنا۔'' فرمایا:'' کیاہم اللہ عزوجل سے خیر کے طلبگارہیں؟'' میں نے کہا : ''جی ہاں! ایک نیکی کے بدلے دس کے طلبگار ہیں ۔''فرمایا :''اے یزید !آہ اطا عت میں جلدی یہ تو نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی اطاعت میں اگے بڑھنا تو یہ ہے کہ عبادت کرتے وقت تم اپنی دلی کیفیت سے بے خبرر ہو جبکہ تم تو اس سے ایک شے کے بدلے دوسری شے کے طلبگار ہو ۔''پھر یہ اشعار پڑھے: