حضرتِ سیِّدُنا محمد بن واسع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد میں چند نوجوانوں کو دیکھا جو غیبت اور گمراہی کے سمندر میں غوطہ زن تھے ۔تو میں نے ان سے کہا:''کیا تم میں سے کوئی اپنے دوست کی مخالفت کرنا پسند کریگا کہ وہ اسے چھوڑ کرکسی اورکو اپنادوست بنالے۔'' نوجوان کہنے لگے:'' نہیں ۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' (پھر بھی)تم اللہ عزوجل کے گھر میں بیٹھ کر اس کے حکم کی مخالفت کررہے ہو اور لوگو ں کی غیبت کررہے ہو ۔'' نوجوانوں نے کہا :''ہم تو بہ کرتے ہیں ۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''میرے بھائیو ! وہ تمہارا رب عزوجل ہے اور تمہارا دوست ہے جب تم اس کی نافرمانی کروگے اور دوسرے لوگ اس کی فرمانبرداری کریں گے تو تمہیں نقصان ہو گا اور دوسرے لوگ فائدہ اٹھالیں گے تو کیا یہ تمہیں گراں نہ گزرے گا ؟'' نوجوانوں نے عرض کیا:''جی ہاں گراں گزرے گا ۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''اورجو اس کے حکم کی نافرمانی کریگا توا للہ عزوجل اگر چاہے تو اسے عذاب میں مبتلافرمائے گا تو کیا تم اپنی جوانی پر غیرت نہ کھاؤ گے کہ تم کس طرح جہنم میں جل رہے ہو اور عذاب میں مبتلاہو اور دو سرے لوگ جنت اور ثواب کا مزہ لوٹیں۔'' نوجوانوں نے عرض کیا :''جی ہاں ۔'' اور پھران لوگوں نے توبہ کر کے اللہ عزوجل سے لو لگا لی۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
چنداشعار