Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
191 - 303
شان ِ ولایت:
     حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ملک شام کی طرف سفر کررہاتھا اچانک میرے سامنے ایک رکاوٹ آگئی تو میں نے راستہ بدل لیا ۔ میں ایک صحرا میں آپہنچا تومجھے وہاں ایک گرجاگھر نظر آیا ۔میں اس کے قریب پہنچا تو میں نے ایک راہب کو اس گر جے سے اپنا سر باہر نکالتے دیکھا۔ اس نے مجھ سے کہا : ''اے شخص! کیاتم اپنے ساتھی کا ٹھکانا دیکھنا چاہتے ہو؟ ''میں نے کہا :''میرا ساتھی کون ہے ؟'' اس نے کہا: ''اس وادی میں ایک شخص تمہارے دین پر ہے اور زمانے کے فتنو ں سے کنارہ کش ہوکر یہاں رہا ئش پذیر ہے ،مجھے اس کی گفتگو اچھی لگتی ہے ۔'' میں نے اس سے پوچھا کہ ''تمہیں اس سے گفتگو کرنے سے کسی نے روکا ہے حالانکہ تم اس کے قریب رہتے ہو؟'' تو اس نے کہا :''مجھے میرے چند دوستو ں نے یہاں رو ک رکھا ہے جن سے مجھے قتل کا خوف ہے مگر جب تم ان کے پاس جاؤ تو میرا سلام کہہ دینا اور میرے لئے دعا کروانا۔'' 

     حضرتِ سیِّدُنا حسن بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اس بزرگ کی طر ف چل پڑا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص ہے جس کے گر د درند ے جمع ہیں ۔جب اس بزرگ نے مجھے دیکھا تو میرے قریب آگئے ۔وہاں مجھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں مگران میں سے کوئی نظر نہیں آرہاتھا۔ میں نے کسی کہنے والے کی آواز سنی جوکہہ رہاتھا کہ'' یہ کون فضول شخص آگیا ہے جس نے عاملین کے مقام کو روندڈالا ۔''پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے سر کو جھکائے ہوئے نرم گفتگو
Flag Counter