Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
189 - 303
ہوئے دیکھا تو اس کے حسن ِاسلام نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ میں نے اس سے اسلام لانے کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا کہ'' میں ابو اِسحاق ابراہیم آجری نیشاپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اینٹوں کی بھٹی کی آگ کو بھڑکا رہے تھے۔ میں ان سے اپنے قرض کا تقاضا کرنے گیا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا:'' مسلمان ہوجا اور اس آگ سے ڈرجس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔''تو میں نے کہا :''اے ابو اسحاق! تمہیں میرے اسلام نہ لانے پر کیاتکلیف ہے تم بھی تودوزخ میں جاؤ گے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''شاید تمہاری مراد اللہ عزوجل کے اس قول سے ہے:
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا
ترجمہ کنزالایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔(پ16،مریم:71)

میں نے کہا :''ہاں۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا کہ'' اپنے کپڑے مجھے دے دو۔'' تومیں نے اپنا کپڑا دے دیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرے کپڑے کو اپنے کپڑے میں لپیٹ کردونوں کپڑے تنور میں ڈال دئیے۔ پھر کچھ دیر بعد و جد میں آگئے اور بلندآواز سے روتے ہوئے تنور میں کو د پڑے ۔تنور سے آگ کے بھڑ کنے کی آوازیں آرہی تھیں۔

     آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تنور کے درمیان سے وہ کپڑے دہکتے ہوئے اٹھائے اور بھٹی کے دوسرے دروازے سے نکل آئے ان کے اس عمل نے مجھے خو فزدہ کردیاتھا۔ چنانچہ میں تعجب سے دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کپڑوں کی گٹھڑی صحیح سلامت اسی طر ح موجود تھی جیسے آگ میں ڈالنے سے پہلے تھی۔ جب آپ
Flag Counter