کا طریقہ تھا نماز کی معرفت کیاہے؟''فرمایا:'' جب تم نماز پڑھنے لگو تو تم جان لوکہ اللہ عزوجل تمہاری طر ف متو جہ ہے لہذا تم بھی اس کی طر ف متوجہ ہوجاؤ جس کی تو جہ تمہاری طر ف ہے اور دل کی گہرائی سے یہ بات جان لو کہ اللہ عزوجل تمہارے قریب اور تم پر قادر ہے پھر جب تم رکوع کرو تو یہ امید نہ رکھو کہ سراٹھا بھی سکوگے اور جب رکوع سے سر اٹھا لوتو سجدہ کرسکنے کی امید نہ رکھو اور جب تم سجدہ کرلو تو کھڑے ہونے کی امید نہ رکھو او رجنت کو اپنی دائیں طر ف اور جہنم کو بائیں طرف جبکہ پل صراط کو اپنے قدموں تلے سمجھو جب تم ایسا کر لو گے تو تم کامل نمازی بن جاؤ گے ۔''حضرتِ سیِّدُنا یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا:'' اٹھو ہم اپنی گزشتہ زندگی کی تمام نمازیں دہرالیں ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
اے وہ شخص جس کا دل مردہ ہوچکا توبد ن کی زندگی کوکونسی شے نفع دے سکتی ہے جبکہ تُواچھائی اور برائی میں فرق نہیں کرسکتا ، ۔۔۔۔۔۔بڑھا پے نے تجھ سے جوانی چھین لی تو تیرے آنسو اور غم کیا ہوئے،۔۔۔۔۔۔ جب دل تقویٰ سے خالی ہوجائے تو رو روکر تالاب بھرنا بھی نفع نہ دے گا، ۔۔۔۔۔۔اے جدائی کے مقتول ! صلح کا یہی وقت ہے پیش قدمی کرلے شاید تیرا غم دور ہوجائے۔