اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اس بات کا تذکرہ ہو اکہ حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوگو ں سے زہدو اخلاص کے بارے میں گفتگوکرتے ہیں تو حضرتِ سیِّدُنا یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ'' ہمیں ان کے پاس لے چلوتا کہ ہم ان سے ان کی کیفیتِ نماز کے بارے میں سوال کریں اگر وہ اسے کامل طریقے سے ادا کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم انہیں زہد واخلاص کے بارے میں گفتگو کرنے سے منع کردیں گے۔''
جب یہ لوگ حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچے توحضرت یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:''اے حاتم ! ہم آپ سے آپ کی نماز کے بارے میں پوچھنے کے لئے آئے ہیں۔'' توحاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اللہ عزوجل تمہیں معا ف فرمائے کس چیز کے بارے میں پوچھنے آئے ہو،نماز کی معرفت کے بارے میں یااس کی ادائیگی کے طریقے کے بارے میں ؟'' تو حضرتِ سیِّدُنا یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوئے اور فرمایا :''حاتم نے ہماری معلومات میں اتنا اضافہ کردیا کہ ہم اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔''
پھر حضرتِ سیِّدُنا حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا کہ'' آپ ہمیں سب سے پہلے نماز کی ادائیگی کے بارے میں بتائیں ۔''تو حضرتِ سیِّدُنا حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''جب نماز کا وقت ہوجائے تو اس کی تیاری شروع کر دو اور محاسبہ کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور سنت طریقہ سے نماز کی ابتداء کرو اور تعظیم کے ساتھ تکبیر کہو اور ترتیل کے ساتھ قر اء ت کرو اور خشوع کے ساتھ رکوع اور خضوع کے ساتھ سجدہ ادا کرو اور سکون کے ساتھ سجدہ سے سراٹھا ؤاور اخلاص کے ساتھ تشہد پڑھو اور رحمت کے ساتھ سلام کہو ۔''تو حضرت سیدنایوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:''یہ تو ادائیگی