| آنسوؤں کا دریا |
ترجمہ:(۱)میں اپنے رب عزوجل کے حکم کی نافرمانی کرچکا ،جب نامہ اعمال میرے کرتوتوں کوظاہرکردے گااس وقت میرے پاس کوئی عذرنہ ہوگا۔
(۲)میرے پاس کوئی عذرنہ ہوگاجب میں ذلت ورسوائی کے عالم میں کھڑاہوں گا بے شک اُس (رب عزوجل )نے مجھے ان کاموں سے منع کیاتھا(مگر)میں بازنہ آیا۔
(۳)اے تمام بندو ں سے بے نیاز! اورمیرے تمام کاموں کاعلم رکھنے والے ۔
(۴)میرے پاس نہ توکوئی حجت ہے اورنہ عذر،تومیری لغزشوں اورگناہوں سے درگزرفرما ۔معافی کے طلب گار:
حضرتِ سیِّدُنا علی بن یحیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ''میں نے کچھ عرصہ شہر عسقلان کے ایک ایسے بزرگ کی صحبت میں گزاراجو بہت زیادہ روتے ، عبادتِ الٰہی عزوجل کثرت سے بجالاتے، کامل ادب کرنے والے تھے، رات میں تہجد اور دن میں نیک اعمال میں مشغول رہتے ۔میں انہیں اکثر دعاؤں میں(عبادت میں کوتاہی پر) عذر پیش کرتے اور استغفار کرتے سنتاتھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک دن لکام پہاڑ کے ایک غار میں داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ شام کواس پہاڑ کے باشندے اور خانقا ہوں سے متعلق لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے دعائیں کرواتے رہے۔ صبح کے وقت جب آپ ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس غارسے واپسی کا ارادہ کیا تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: ''حضور ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے ؟ ''فرمایا:'' اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عذر پیش کیاکر کیونکہ اگر اللہ عزوجل نے تیرا عذر قبول فرما لیا توتُو