Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
182 - 303
ترجمہ:(۱)اے لوگو ں میں معززبننے والے !میری بارگاہ میں تیری کیاحالت ہے کہ تونے مجھ سے کئے گئے عہد میں خیانت کی ۔

    (۲)(بندہ مناجات کرتاہے )میں عنقریب تیری بارگاہ میں اپنی حالت کی فریادکروں گا امید ہے میری فریادرسی ہوگی ۔

    (۳)تُومیرامولیٰ عزوجل ہے ،تومیری ا س حالت کوبھی دیکھ رہاہے کہ میرے آنسو میرے رخسار وں پررواں ہیں۔

    (۴) میں رات عبادت کی مشقت اٹھاتے ہوئے گزارتاہوں اورمیں اس مشقت میں منفرد نہیں ہوں۔
ساحل ِ سمندر پر عبادت کرنے والا:
    حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' ایک مرتبہ دوران سفر مجھے شدید پیاس لگی تو میں پانی کی تلاش میں ساحل کی طر ف چل دیا۔ اچانک میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے حیا اور نیکو کاری کی چادر کو اپنا لباس بنارکھاتھااور گر یہ وزاری اور آہ و فغا ں کی قمیص زیب تن کر رکھی تھی۔ وہ ساحل ِسمندر پر کھڑا نماز ادا کررہاتھا۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں اس کے قریب گیا اور اسے سلام کیا تو اس نے کہا کہ'' اے ذوالنون ! تم پر بھی سلامتی ہو ۔'' میں نے پوچھاکہ'' اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ، آپ نے مجھے کیسے پہچانا ؟'' اس نے جواب دیا کہ'' میرے دل سے نورِ معرفت کی شعا ع تمہارے دل کے نورِ محبت کی سطح پر ظاہر ہوئی تو میری روح نے اسرارکے حقائق کے ذریعے تمہاری رو ح کو پہچا ن لیا اور میرا با طن اللہ عزیز وجبار عزوجل کی محبت میں تمہارے با طن سے الفت کرنے لگا ۔''
Flag Counter