Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
181 - 303
میں غور کیا تو مجھے ان کی باتیں غمزدہ دل اور عا جز کرنے والی بیقراری سے نکلتی ہوئی نظر آئیں اور وہ مسلسل آنسو بہار ہے تھے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله عليه وسلم)

    پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی حکمت سے ارواح کی لطا فت اور اجسا م کی کثافت کوجمع فرمایا، دن اور رات کو زمانے کے لیے بازوبنایا جو بغیر بالوں اور پروں کے فناء کے لئے اڑرہے ہیں اورمحبین کی ارواح کوجامِ محبت پلایا، تو اللہ عزوجل ہی کے لئے اس کی خوبی ہے جس نے اسے ہر راحت سے شیریں بنایا ،انس ومحبت کی مجلس میں ان کے لئے عبادت کاسرور پیدا کیا۔لہذا انہوں نے پیالوں کے بجائے اسے مٹکوں سے پیا، تا ریکی کے گلستا ن کوتہجد کے پھولوں اور کلیوں سے سنوارا اور ہر صبح کی ابتداء اللہ عزوجل کے ذکر سے کی ، لہذا وہ صبح وشام کے شربت اور پاکیزہ خوشبووالے جام نوش کرتے ہیں، آزمائش کے قالب میں ا ن کے دل صبر کی زبان سے کہتے ہیں:'' اُس (کی محبت) کے سواکوئی چارہ نہیں ۔'' اللہ عزوجل نے انہیں اپنی رضا کی خلعت سے سر فرار فرمایا اور انہیں شو ق وفرحت کی مجلس میں بٹھا یا ،انہوں نے کائنات پر نظر کی تو انہیں اس کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا، ان کی محبت میں وار فتگی کی وجہ سے ان پر کوئی الزام نہیں،نورِ معرفت نے ان کی آنکھوں کوڈھانپ رکھا ہے ان میں سے عا رفین زبان ِتو حید سے پکار کر کہتے ہیں :
یَااَعَزَّ  النَّاسِ   عِنْدِیْ 			کَیْفَ حَتَّی خُنْتَ عَھْدِیْ

سَوْفَ اَشْکُوْلَکَ حَالِیْ			فَعَسٰی   شِکْوَایَ    تُجْدِیْ

اَنْتَ    مَوْلَایَ     تَرَانِیْ			وَدُمُوْعِیْ     فَوْقَ      خَدِّیْ

اَقْطَعُ   اللَّیلَ   اُقَاسِیْ 			مَا    اُقَاسِیْ     فِیْہِ    وَحْیْ
Flag Counter