ترجمہ:(۱)کسی پتھر پربھی اگر اکسٹھ سال گزرجائیں تو وہ پتھربھی بوسیدہ کہلائے گا۔
(۲)اپنی امیدوں تک پہنچنے کے لئے نفس بڑی آرزوئیں کررہاہے حالانکہ نہیں جانتا کہ تقدیر کیاکرنے والی ہے۔
دعا کی برکت:
حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق جیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' میں حضرتِ سیِّدُنا علی بن عبد الحمیدغضا ئری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں سب سے زیادہ عبادت گزار اور کثرت سے مجاہد ہ کرنے والا پایا۔ وہ دن رات نماز ادا کرتے رہتے تھے لہذا میں ان کے نما ز سے فا رغ ہونے کا انتظار کرنے لگا مگر میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی تو میں نے ان سے کہا کہ'' ہم اپنے ماں با پ ، بیوی بچوں اور اپنے شہر کو چھوڑ کر آپ کے پاس آئے ہیں لہذا آپ تھوڑی دیر کے لئے نماز سے فارغ ہوکر ہمیں اللہ عزوجل کا عطا کردہ علم سکھا ئیں۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' مجھے ایک صالح بزرگ حضرتِ سیِّدُنا سری سقطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دعا ہے ،میں ان کی خدمت میں حاضر ہوااور دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ کھولنے سے پہلے میں نے انہیں یہ مناجات کرتے ہوئے سنا کہ'' یاالٰہی عزوجل ! جو شخص مجھے تیری بارگاہ میں مناجات کرنے سے غافل کرنے کے لئے میرے پاس آیا ہے تو اسے اپنی محبت میں مشغول کر کے مجھ سے غافل کردے۔'' تو جب میں حضرتِ سیِّدُنا سر ی سقطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ سے واپس لوٹا تو نماز اور اللہ عزوجل کے ذکر میں مشغول رہنا میرا محبو ب مشغلہ بن گیااس لئے میں اس نیک بزرگ کی دعا کی برکت سے ان کا مو ں کے علاوہ کسی چیز کے لئے فا رغ نہیں ہوتا ۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''میں نے ان کی باتو ں