| آنسوؤں کا دریا |
کرنے پر نیند کو تر جیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کے کلام پر کسی کے کلا م کو اہمیت دیتے ہیں، جو اس کی معرفت رکھتا ہے وہی اسے پہچان سکتا ہے ،جو اس کی لذت پاتا ہے وہی اس کی لذت پاسکتا ہے اور اس کا دوست وہی بنتا ہے جو اس سے راضی رہتا ہے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
پاک ہے وہ ذات جس نے مخلوقات پر فنا ہونا لازم کردیا ہے لہذا اس کے نزدیک بادشاہ اور غلام دو نو ں بر ابر ہیں ۔وہ باقی رہنے والا اور قدیم ہے یعنی کائنات کی پیدا ئش سے پہلے بھی اکیلاہی تھا اس نے کائنات میں جو چاہا وہی کیا ہر ایک خواہ وہ نیک ہو یابد ،گمراہ ہو یا ہدایت یافتہ ، اس کی بارگاہ کا محتا ج ہے ،
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یَسْـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ29﴾
ترجمہ کنزالایمان :اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانو ں او رزمین میں ہیں اسے ہردن ایک کام ہے۔'' (پ27 ،الرحمن :29)
وہ بڑا جو اد ہے ہر ایک کو اسی کی عطاء نے ڈھانپ رکھا ہے( تو بد کار کہا ں بھاگے گا)، گمشدہ کی تلافی کون کریگا ؟ قضاء کتنی بار ضامن سے جھگڑ چکی اور کتنے دھتکار ے ہوئے لوگو ں کو اس کی بارگا ہ میں حاضری کی اجازت ملی اور گنہگار لوگ 'خوش نصیب بندوں کی قسمت سے کس قدر غافل ہیں حالانکہ ان گنہگاروں میں سے کچھ بدبخت ہیں اور کچھ نیک بخت ۔
اشعاراِحدٰی وَسِتُّوْنَ لَوْ مَرَّتْ عَلٰی حَجَرٍ لَکَانَ مِنْ حُکْمِھَااَن یَّخْلُقَ الْحَجَرُ تُؤَ مِّلُ النَّفْسُ آمَالًا لِتَبْلُغَھَا کَاَنَّھَا لَاتَرٰ ی مَا یَصْنَعُ الْقَدَرُ