| آنسوؤں کا دریا |
رُخ کر کے کھڑے ہوئے اور با آواز بلند کہنے لگے:''اے مرا قبے اور معرفت کی موت سے مرنے والو ! اے اُنس ومحبت کی تلواروں سے شہید ہونے والو! اے خوف واشتیاق کی آگ میں جلنے والو! اے مشاہد ے اور ملاقات کے سمندر میں غرق رہنے والو !یہ محبوب کا دیار ہے، محبت کرنے والے کہا ں ہیں ؟ یہاں قربت کے اسرار ہیں، مگر اس کے مشتاق کہاں ہیں ؟ یہ دیار محبت او راس کی بہار کے نشان ہیں، اس کا قصد کرنے والے کہاں ہیں؟یہ التجاء کی گھڑی اور آنسو بہانے کا وقت ہے، مگر رو نے والے کہا ں ہیں ؟ ''پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے پھر جب کچھ دیر بعد افا قہ ہوا تو کہنے لگے:
مُذْ تَبَدّٰی لِنَاظِرِیْ بَلْبَلَ الشَّوْقُ خَاطِرِ یْ حَاضِرٌ غَیْرُ غَائِبٍ سَاکِنٌ فِیْ الضَّمَائِرِ ھُوَ کَنْزِ یْ الَّذِیْ بَدَا فِیْ الرُّ سُوْمِ الدَّوَائِرِ
ترجمہ:(۱)جب (خانہ کعبہ )میر ی نظروں کے سامنے آگیاتومیرے دل میں شوق بھڑک اٹھا۔
(۲)وہ (شوق)موجودہے ،پوشیدہ نہیں ہے (کیونکہ)وہ تودلوں میں بساہواہے ۔
(۳)یہ میراوہ خزانہ ہے جوتیزی سے آنے والی گردشوں میں(مجھ پر)ظاہرہوا۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان کے قریب آکر عرض کیا کہ'' حضور ! اللہ عزوجل سے محبت کرنے والوں کی علامات کیا ہیں ؟ ''فرمایا:'' محبین کو رات کی تاریکی میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں خاص نشاط حاصل ہوتا ہے ،ان کے اور اللہ عزوجل کے درمیان ایک خوشی ہوتی ہے ،اپنے معبود کا اُنس انہیں آرام کی لذت سے دور کردیتا ہے اور رب عزوجل کی محبت انہیں پوری کائنات سے جُداکردیتی ہے ،وہ رب عزوجل سے منا جا ت