ترجمہ:محبوب کی یادنے میرے دل کوبے قرار کردیا پھر( اس)محبوب کی محبت نے میری عقل کو زائل کردیا۔''
پھر فرمانے لگے :''مخلوق کی ملاقات سے مجھے وحشت ہوتی ہے او رمیں ربُّ العالمین عزوجل کے ذکر سے اُنس رکھتا ہو ں ،اب تم سلام کر کے مجھ سے رخصت ہوجاؤ۔ ''میں نے عرض کی : ''اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے میں مزید نصیحت کی امید پر تین دن تک آپ کے پاس ٹھہرا رہا۔'' توانہوں نے ارشاد فرمایاکہ'' اپنے مولیٰ عزوجل کے علاوہ کسی سے محبت نہ کرو او راپنی محبت کا بدلا نہ مانگو کیونکہ اللہ عزوجل سے محبت کرنے والے عابدوں کے سر تاج اور زاہدوں کے لئے نشانِ منزل ہیں اور یہی اللہ عزوجل کے بر گزید ہ اور مقر ب بندے ہیں۔'' اس کے بعد وہ ایک چیخ مار کر گر پڑے میں نے انہیں ہلاکر دیکھا تو ان کا انتقال ہوچکا تھا تھوڑی ہی دیر بعد پہاڑ سے عا بد ین کی ایک جماعت اتری، انہیں غسل دیا،اور کفن پہنا کر جنازہ ادا کرنے کے بعدانہیں دفن کردیا ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ'' اس بزرگ کا نام کیا ہے؟'' تو انہوں نے بتا یا کہ'' ان کانام حضرتِ شیبان المصاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہے ۔''
حضرتِ سیِّدُنا سالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اہل شام سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتا یا کہ'' ہاں وہ ایک دیوانہ تھا جو بچو ں کی ایذاء کی وجہ سے چلاگیا ۔'' میں نے پوچھا :''کیا تمہیں ان کی کوئی بات یا د ہے؟'' توانہوں نے کہا: ''ہاں! جب وہ بے قراروبے چین ہوتے توکہتے کہ'' اگر میں تیری خاطر دیوانہ نہ بنوں تو کس کی خاطر بنوں۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)