Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
174 - 303
رہنا۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تین دن تک مجھ سے جدا رہے ۔جب مجھے بھوک لگتی تو میں جھاڑیاں اور پودے کھالیتا اور تالاب کا پانی پی لیتا ۔جب تین دن گزر گئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میرے پاس تشریف لائے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا رنگ بدلاہواتھااور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پربے خودی کی کیفیت طاری تھی میں نے عرض کی:'' اے ابو الفیض ! کیا درندو ں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو روک لیا تھا؟'' فرمایا:'' مجھ سے انسانی خوف کی بات نہ کرو، میں اس پہاڑ کے ایک غار میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ایک شخص کو دیکھا اس کے سراور داڑھی کے بال سفید اور پرا گندہ تھے۔ ایسالگ رہا تھا جیسے وہ قبر سے نکل کر آیا ہو۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا ۔میں نے اسے سلام کیا تو اس نے مجھے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ'' نماز پڑھ لو۔'' پھر وہ نماز کے لئے کھڑا ہوگیا اور عصر کی نماز ادا کرنے تک رکوع وسجود کرتا رہا۔ پھر محراب کی جانب ایک پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور مجھ سے کوئی بات نہ کی تو میں نے کلام کی ابتدا ء کرتے ہوئے کہا کہ'' اللہ عزوجل ا ۤپ پر رحم فرمائے مجھے کوئی نصیحت فرمائیے جس سے میں نفع اٹھاسکوں اور میرے لئے دعا کیجئے ۔'' تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ'' اے بیٹا! اللہ عزوجل جسے اپنے قرب سے سر فراز فرماتاہے اسے چار خصلتیں عطا فرماتاہے (۱)خاندا ن کے بغیر عزت عطا فرماتاہے، (۲) بغیر سیکھے علم عطا فرماتا ہے، (۳)مالداری کے بغیر غناء عطا فرماتاہے، (۴) اور ساتھیوں کے بغیر اُنس عطا فرماتاہے۔ ''پھر انہوں نے ایک زوردار چیخ ماری اورتین دن تک بے ہوش رہے ۔ میں سمجھا کہ ان کا انتقال ہوچکاہے پھر جب انہیں افا قہ ہوا تو کھڑے ہو کرقریب ہی ایک چشمے سے وضو کیا اور اپنی فو ت شدہ نمازوں کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں نمازوں کی تعداد بتائی تو انہوں نے وہ نماز یں قضا کیں پھر مجھ سے فرمایا :