Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
173 - 303
ترجمہ:(۱)ایام گزشتہ میں میرا کوئی گناہ نہیں یہ سب (حالاتِ) زمانہ کی کوتا ہی اور سوئے قضاء ہے ۔

    (۲)یاالٰہی عزوجل! تواپنافضل فرما اورگناہوں کومٹاکراس گناہگارکوستھراکردے جو پچھلے تمام گناہوں کااقرارکرتاہے ۔

    (۳)یہ بندہ ہمیشہ تیرے خوف (کے تصور)سے عالم حیرت میں ہے ،(اور)اس کے دل کی ساری فضاء تیری خشیت سے شعلہ زن ہے ۔

    (۴)اگر چہ میں قصوروارہوں لیکن (ایمان کی وجہ سے)میری حرمت بھی توہے جو تیری ذات سے بہترین رضا کی طلب گارہے۔
مجھے ڈانٹ کر بو لی:'' اے جھوٹے ! مجھ سے دور ہوجا ،جب میں نے دور سے تجھے دیکھا تھا تو سمجھی تھی کہ تو کوئی عارف ہے اور جب تو نے کلام کیا تو میں سمجھی کہ تو کوئی عاشق ہے اور اب پتہ چلا کہ تو نہ عارف ہے نہ ہی عا شق ہے کہ تُو میری محبت کا دعوی بھی کرتا ہے اور میری قربت پائے بغیر میرے علاوہ کسی کی طر ف دیکھتا بھی ہے۔'' پھر وہ مجھ سے دور چلی گئی اور نظر بھر کے آسمان کی طرف دیکھنے کے بعد بلند آواز سے کہنے لگی کہ'' آہ ! آہ!یا الٰہی عزوجل ! وصال کی چاہت نے مجھے لوگوں سے غیر مانوس کردیا ، افسوس ! جدائی کے خوف نے مجھے بے قرار کردیا ،آہ! وصال سے پہلے جدائی پر افسوس!'' پھر وہ یہ اشعار پڑھنے لگی:
حُبِّیْ فِیْ  ذِیْ  الْقِفَارِ  شَرَّدَنِیْ 		   آہْ مِنَ   الْحُبِّ   ثُمَّ  آہْ

خَوْفُ فِرَاقِ الْحَبِیْبِ اَزْعَجَنِیْ 		   آہْ مِنَ   الْخَوْفِ   ثُمَّ آہْ

شَبَّہَ    حَالِیْ    بِتَاجِرٍ   غَرِ قٍ 		   نَجَامِنَ  الْبَحْرِ    ثُمَّ تَاہْ
ترجمہ:(۱)مجھے بیابانوں کے مالک کی محبت نے بکھیرکر رکھ دیا،آہ! محبت میں پھر آہ۔

    (۲) مجھے محبوب کی جدائی کے خوف نے بے چین کررکھاہے ،اس خوف سے آہ پھرآہ۔

    (۳)میراحال اس ڈوبنے والے تاجر کی طرح ہے جو سمند ر (کی تکالیف)سے بچ تو گیاپھربھی حیران وپریشان رہا۔
ایک دیوانہ :
     حضرتِ سیِّدُنا سالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' میں حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ الولی کے ساتھ لبنان کے ایک پہاڑ پر سے گزررہاتھا کہ اچانک آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا کہ'' اے سالم ! میرے لوٹنے تک اسی جگہ کھڑے
Flag Counter