| آنسوؤں کا دریا |
مَاالذَّنْبُ لِیْ فِیْمَا مَضٰی سَالِفًا الذَّنْبُ لِلدَّھْرِ وَ سُوْءِ الْقَضَا فَامْنُنْ وَجُدْ بِالصَّفْحِ عَنْ مُذْنِبٍ مُعْتَرِ فٍ بِالذَّنْبِ فِیْمَا مَضٰی قَدْ ظَلَّ مِنْ خَوْفِکَ فِیْ حَیْرَۃٍ فِیْ قَلْبِہِ مِنْکَ لَھِیْبُ الْفَضَا اِنْ کَانَ لِیْ ذَنْبٌ فَلِیْ حُرْمَۃٌ تُوْجِبُ لِیْ مِنْکَ جَمِیْلَ الرِّضَا
ایک عورت کی نصیحت:
حضرت سیدنا اصمعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ''میں ایک بیابان سے گزررہا تھا کہ اچانک مجھے ایک چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہرے والی عورت نظر آئی ۔ میں اس کے قریب گیا اور سلام کیا تو اس نے اچھے اندا ز میں سلام کا جواب دیا میں نے کہا: ''اے لڑکی ! میرا تن من تیری طر ف متو جہ ہے۔'' وہ فورا بولی:'' لیکن میں تیری طرف بالکل متوجہ نہیں، اگر تجھے میرا حسن بھاگیا ہے تو پیچھے دیکھو تمہیں مجھ سے زیادہ حسین عورت نظر آئے گی ۔'' جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا ۔ وہ