Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
168 - 303
شے پر راضی ہوگیا اور اس نے اسی خوف سے نفس کو مشقت میں ڈال کر دنیا کو تر ک کیا کہ اس کا ٹھکانا جہنم نہ بنے اور یہ امید رکھی تھی کہ جنت اس کا ٹھکانابن جائے۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' میں نے ان سے پوچھا کہ'' اے بھائی ! تم ان ویران جنگلات میں تو شہ کے بغیر کیسے رہ لیتے ہو؟'' تو اس نے جواب دیا کہ ''اے بیکار شخص! جو تمہیں اپنے حال کی خبر نہ دے اور اپنے راز کے معاملے میں تم سے بے خوف نہ ہو ،یہ سوال اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔'' پھر اس نے اپنا دایاں قدم زمین پر مارا تو وہاں گھی اور شہد کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا توہم دونوں نے اس میں سے کھایا ۔پھر انہوں نے بایاں قدم زمین پر مارا تو شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا چشمہ پھُوٹا تو انہوں نے اس سے پانی پیا پھر انہوں نے دونوں چشموں پر ریت ڈالی تو وہ زمین پہلے کی طر ح برابر ہوگئی جیسے وہاں کوئی چشمہ تھاہی نہیں۔ پھر وہ مجھے تنہا چھوڑ کر چلا گیا میں ان کرامات کو دیکھ کر دیرتک روتا رہا ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)