Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
167 - 303
اس نے جواب میں کہا''و علیک السلام یا ذاالنون ! ''میں نے پوچھا :'' میرے بھائی ! تم نے مجھے کیسے پہچانا؟'' اس نے جواب دیا کہ'' میرے باطن سے حقائق تمہارے ضمیر کے خزانے پر ظاہر ہوئے تو اس حق نے تمہارے عزم کے غیوبات میں تمہاری معرفت کی صفائی کا مشاہد ہ کیا اور دونوں ہم کلام ہوئے تو اسی نے مجھے بتا یا کہ تم ذوالنون مصری ہو۔''میں نے پوچھا :''اے میرے بھائی ! محبت کی ابتداء کیسے ہوتی ہے ؟ ''اس نے اپنی آستین پر لکھی ہوئی آیت کی طر ف اشارہ کیااورکہنے لگا :'' یہ جو تم دیکھ اور پڑھ رہے ہوا س کوپیش ِنظر رکھنے سے محبت کی ابتداء ہوتی ہے۔'' میں نے پوچھا : ''بھائی ! محبت کی انتہاء کہاں ہوتی ہے ؟'' اس نے کہا کہ'' اے ذوالنون!اللہ عزوجل ایسا محبو ب ہے جس کی محبت کی کوئی انتہاء نہیں اور اس کے سامنے عجز وانکساری کے بغیر محبت کرنا ممکن نہیں ہے۔'' میں نے پوچھا :''اے میرے بھائی! دنیا سے بے رغبتی آخرت کی طلب میں ہوتی ہے یا مولیٰ کی رضا کے لئے؟'' جو اب دیا کہ'' ایک مخلوق سے دوسری مخلوق کی طلب میں کنارہ کشی کرنا تو خسارے کی بات ہے ،اس مخلوق دنیا سے بے رغبتی فقط اللہ عزوجل ہی کے لئے ہونی چاہیے، اے ذوالنون ! قدیم محبوب یعنی اللہ عزوجل سے اس کی مخلوق یعنی جنت پر راضی ہونا کم ہمت بندے کاکام ہے ،زُہد کا مطلب غیراللہ سے اجتناب ، اولیاء کی تلاش اور اللہ عزوجل کی نشانیوں کا مشاہدہ ہے، جو اللہ عزوجل کے علاوہ کسی غیر کو چاہے گا اس کا مطلوب اس کا محبوب بن جائے گا ۔ لہذا جب کوئی مخلوق اپنے ہی جیسی مخلوق پرراضی ہوتو مشابہت اس کا مقصود بن جاتی ہے (یعنی یہ اپنی طر ح کی مخلوق کو اپنا مقصود بنالیتا ہے)۔اے ذوالنون !وہ شخص خسارے میں ہے جس نے لذت وآرام چھوڑا، دنیا سے منہ موڑا اور پھرقُرب الٰہی عزوجل کے سوا کسی