Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
165 - 303
یہ ہے کہ محب ہر وقت محبوب کا دیدار کرتا رہے کیونکہ غیر میں مشغول ہونا محبت کے لئے حجاب ہے ۔محبت کی اصل کا مل اتباع اور یقین ہے ۔یہی دو چیزیں ہیں جو انسان کو جنت میں پرہیزگاروں کے درجے میں پہنچادیتی ہیں۔''

اشعا ر
اُحِبُّ الصَّالِحِیْنَ وَلَسْتُ مِنْھُمْ		وَاَطْلُبُ اَنْ اَنَالَ بِھِمْ شَفَاعَہْ

وَاَکْرَہُ مَنْ بِضَاعَتُہُ الْمَعَاصِیْ 		وَلَوْکُنَّا سَوَاءً فِیْ الْبِضَاعَۃْ
ترجمہ:(۱)میں نیک لوگوں(اولیاء)سے محبت کرتاہوں حالانکہ میں ان میں سے نہیں، اوران لوگوں کے مرتبہ تک پہنچنے کے لئے سفارش کاطلب گارہوں۔

    (۲) میں اسے ناپسندکرتاہوں جس کاسرمایۂ حیات گناہ ہوں،اگر چہ ہم اس سرمایہ (گناہ)میں برا برہیں۔
رضائے الٰہی عزوجل کا طالب:
    حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ ''ہم ایک ویران جنگل سے گزر رہے تھے کہ ہمیں ایک نوجوان نظر آیا۔ اس کے چہرے کی رنگت اڑی ہوئی تھی اور بدن گھل چکا تھا ، اس کی پیشانی پرعبادت کا نورچمک رہا تھا ، رخسار وں پر قبولیت کے آثار دمک رہے تھے ، چہرے پر عبادت ومجاہدے کے نشان عیاں تھے ،شکل وصورت سے محبوبیت اور مشاہدہ واضح تھا۔ اس نے دو پرانے کپڑے زیب تن کر رکھے تھے۔ بد ن پر اون کا ایک جبہ بھی تھا جس کی آستین اور دامن پھٹے ہوئے تھے ۔ اس کی ایک آستین پر یہ لکھا ہواتھا:
Flag Counter