Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
164 - 303
    پیارے اسلامی بھائی! تیرے لئے ساری کائنات کی راہیں کھلی ہیں تُو اس میں سے اس پاکیزہ جامِ محبت کو منتخب کرلے کہ اس کا ایک قطرہ پیاس بجھانے میں آب ِ کو ثر جیسا ہے۔ یہی جامِ محبت حضرتِ صدیق وفاروق اور سعیدویگر عشرہ مبشرہ علیہم الرضوان پر پیش ہوا تو وہ سب اسے پینے کے لئے جمع ہوگئے ۔اپنے اکابر ین ِکے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیگر صلحاءِ امت نے یہی روحانی فکر اپنا ئی ۔تم بھی اہل ِصفّہ کی صفات اپنا لو، اس کا کچھ حصہ تمہیں بھی نصیب ہوجائے گا۔اس کی طلب میں رُکا وٹ بننے والے حیلے چھوڑدو۔ اگرتم ملامت کی راہ چھوڑدوگے تو تمہارا کیا جائے گا۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہارا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔اپنے مالک کی حمد بیان کرو، خوشی سے جھومواور وجد میں آجاؤ ساری مخلوق تمہاری دوست بن جائے گی ، محبوب کا قرب حاصل ہوگا ۔اپنے دلوں کی حفاظت کرو ،اگر تم نے غیراللہ پر نظر رکھی اور اللہ عزوجل کی بارگاہ سے دور ہوگئے تو تمہارا کیابنے گا ۔

    اے فقراء کی جماعت ! یہ باتیں توتمہارے سننے کی تھیں۔ اے احوال والو! میں تم سے مخاطب ہوں میں یہ خوبیاں تمہیں بتاتے ہوئے تمہارے ساتھ چل رہاہوں، اے تائبین (یعنی توبہ کرنے والوں)کی جماعت! اس جو ہرِ قابل کے حصول کے لئے نافرمانی سے بچنا تمہارے لئے کیامشکل ہے۔ اگر تم اس خطاب سے محرو م رہے اور خوشی میں نہ جھومے تو محرومی کے جنگل میں بھٹکتے رہوگے۔
محبت کی حقیقت:
    حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر وراق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں کہ'' محبت کی حقیقت
Flag Counter