مزید طلب کی خواہش میں مبتلا رہتے ہیں۔ دوستی کی فکر کے نشہ نے انہیں مدہوش کیا تو کیا ظاہر' کیا پوشیدہ ؟سب ان کے سامنے آگیا۔ انہوں نے اس جامِ محبت سے خوب فیض پایا تو ان کے تمام احوال سمٹ کررہ گئے۔ گلستانِ محبت کے باشندوں کی پُرسوزآوازنے انہیں مست کردیا تو وہ آہستہ آہستہ وجد میں آگئے ۔ان کا ساقی ان کا اپنا ہی محبوب ہے ۔ان کی محفل رنگا رنگ پھولو ں سے آراستہ ہے ۔ان کے غلام ہوش میں آچکے ہیں جبکہ یہ لوگ اب تک مدہوشی میں ہیں ۔یقینا اس پائیدار محبت کا ایک گھونٹ ساری دنیا کے عو ض بھی سستا ہے اور بیوقوف کے علاوہ اسے کوئی نہیں چھوڑ سکتا اور بے وقوف بھی ایسا جس کی بد بختی انتہاء کو پہنچ چکی ہو ۔پیارے اسلامی بھائی !میری نصیحتوں کو قبول کرلو اور(توبہ کا) دروازہ بند ہونے سے پہلے ہی اس کی طر ف سبقت کرو ،یہ محبت تمہیں ہر لذت سے بے نیاز کردے گی ۔
حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السلام نے بھی اسی محبت کا جام پیا ہے اور اسی پر حضرتِ سیِّدُنا نوح علیہ السلام نے گریہ وزاری کی اور حضرتِ سیِّدُنا زکر یا علیہ السلام کو اسی محبت میں آرے سے چیرا گیا،حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کوآگ میں ڈالا گیا تو انہیں آگ کی تپش کااحساس نہ ہوا ،حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علیہ السلام کا شوق بڑھا تو وہ عرض کرنے لگے کہ مجھے اپنی تجلی دکھا دے تا کہ میں تیری زیارت کر سکوں، حضرتِ سیِّدُنا داؤد علیہ السلام کو خوش الحانی کاکیساسُرور حاصل ہوا ، حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ علیہ السلام نے جنگلات میں رہنا پسند فرمایا لہذا نہ شہر میں گھر بنایا نہ دیہات میں اورہمارے نبی مکرم ، شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی محبت الٰہی عزوجل کاجام پیااور آج بھی جومحبوب کی تعریف ہوتی ہے اوراس پرفخرکیاجاتاہے یہ اسی محبت کابچاہواحصہ ہے ۔