اے میرے بھائی !
آخرت کو دنیا کے بدلے بیچنے والا خسارے میں ہے، جس شخص کو تونے چھوڑجانا ہے اس کی محبت سے بچ کررہنا کہ کہیں تُو اس سے بچھڑنے پر پریشان نہ ہوجائے، ۔۔۔۔۔۔تقویٰ سے دو ستی ہی سچی رفاقت ہے، ۔۔۔۔۔۔گناہوں سے دوستی رکھنے والا دھوکے میں ہے، آخرت کاعوض بہت تھوڑا ہے اور وہ پُراِخلاص دل اور ذکر میں مشغول رہنے والی زبان ہے،۔۔۔۔۔۔ اگر تُو بوڑھا ہونے کے باوجودغفلت کی نیند سے بیدا ر نہ ہو ا تو اتنا سوچ لینا کہ تُو دنیا سے رخصت ہونے والا ہے ،۔۔۔۔۔۔تُو نے رونے والی زبان اور رات بھر جاگنے والی آنکھیں چھوڑ یں اورتہجد گزار لوگو ں کی طر ح عبادت کرنا بھی چھوڑ دیا،۔۔۔۔۔۔ حالانکہ یہ تہجد گزارلوگ 'گریہ کرنے والی زبانیں اور شب بیداری کرنے والی آنکھیں بارگاہ ِالٰہی عزوجل میں نذر کرچکے ،۔۔۔۔۔۔ان کے پہلو فقر وفاقہ اور آہ وزاری کے باوجود آرام کی طر ف مائل نہیں ہوتے ،۔۔۔۔۔۔جب وہ نسیمِ سحر سے فر حت پالیتے ہیں تو خوشگوار فضا سے بے نیاز ہوجاتے ہیں،۔۔۔۔۔۔یہ لوگ شب بیدار ی کر کے استغفار میں مشغول رہتے ہیں،۔۔۔۔۔۔ انہوں نے عبادت کے گھر کو آبادرکھا اور غفلت کی منزل کو ویران کردیا ۔