حضرتِ سیِّدُنا عبدالا علی بن علی علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں کہ'' میں کسی بزرگ کی تلاش میں لبنا ن کے ایک پہاڑ پر چڑھا 'تاکہ ان کے اخلاق اپنا سکوں ۔ اللہ عزوجل نے ایک غار کی طرف میری رہنمائی فرمائی۔ میں نے وہا ں ایک بزرگ کو دیکھا جن کے پُرسکون چہرے سے نور کی کرنیں پھوٹ رہیں تھی ۔میں نے انہیں سلام کیا تو انہو ں نے بہترین انداز سے سلام کا جواب دیا۔ میں ان کے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ موسلادھار بارش شروع ہوگئی ۔ مجھے ان کی اجازت کے بغیر غا ر میں پناہ لینے میں جھجک محسو س ہوئی تو انہوں نے ازخودمجھے بلاکر پنا ہ دی اور اپنے قریب پڑے ہوئے ایک پتھر پر بٹھا دیا۔
انہوں نے اسی طرح کے ایک (بڑے)پتھرپر نماز ادا کی ۔ بارش اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے میرا دم گھٹنے لگا۔فرمانے لگے:'' عبادت گزارو ں کی شرائط میں سے ہے کہ وہ عاجزی اور تا بعداری اختیار کریں ۔'' میں نے پوچھا کہ'' محبت کی علامت