''میں اللہ عزوجل سے تین چیزو ں کا طلب گار ہوں ۔ ''میں نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟'' فرمایا: '' میں چاہتا ہوں کہ جب مجھے موت آئے تو میری ملکیت میں کوئی چیز نہ ہو اور مجھ پر کوئی قرض نہ ہو اور نہ ہی (کمزوری کی وجہ سے)میری ہڈیوں پر گوشت ہو ۔''اور ان کی یہ تینوں خواہشات پوری ہوئیں۔چنانچہ انہوں نے مر ض الموت میں مجھ سے پوچھا کہ'' کیا تمہارے پاس خرچ کرنے کے لئے کوئی چیز موجود ہے ؟'' میں نے جواب دیا '' نہیں ۔'' پوچھا '' تم کیاچاہتی ہو ؟''میں نے جواب دیاکہ'' یہ خیمہ بازار میں جاکر بیچنا چاہتی ہوں۔'' فرمایا کہ'' اگر تم ایسا کرو گی تو ہمارا حال ظاہر ہوجائے گا اور لوگ کہیں گے کہ ''انہوں نے اپنی مجبوری کی وجہ سے خیمہ بیچا ہے ۔''
آپ فرماتی ہیں کہ'' ہمارے پاس بکری کا ایک بچہ تھا جومیرے بھائی نے تحفہ دیا تھا۔'' میرے شوہر نے مجھے حکم دیا کہ'' اسے بازارمیں جاکر بیچ دو۔''وہ بکری کا بچہ دس درہم میں فروخت ہوا ۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہاکہ'' ایک درہم کی میرے لئے خو شبو خرید کرلاؤاور باقی سارا مال راہ ِخدا عزوجل میں خرچ کردو۔'' تو جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا تو ان درہموں میں سے اس ایک درہم کے علاوہ جسے ہم نے خوشبو کے لئے نکال لیاتھا کچھ باقی نہ تھا ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
اے جھوٹی امید یں باندھنے والے ! وسوسوں سے جان چھڑالے!اے اونگھنے والے ! اپنی کامیابی کے لئے کب بیدا ر ہوگا اورکب آخرت کا طلب گاربنے گا؟ اے دنیا میں رغبت رکھنے والے ! اس جدا ئی کو کب یاد کریگا کہ جب تُو ہر پیارے