Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
156 - 303
 میں کتنی غفلت کرتاہوں؟ حالانکہ مجھ سے حساب وکتاب میں ہرگزغفلت نہیں بر تی جائے گی، ۔۔۔۔۔۔ میری زندگی کیونکر خوشگوارہو سکتی ہے؟ حالانکہ میرے سامنے ایک کٹھن دن ہے ،۔۔۔۔۔۔ میں عمل میں چستی کیوں اختیار نہیں کرتا حالانکہ میں نہیں جانتا کہ میری موت کا وقت کیا ہے ،میں دنیا میں کیسے خوش رہوں؟ حالانکہ مجھے یہا ں ہمیشہ نہیں رہنا،۔۔۔۔۔۔ میں اسے ترجیح کیوں دوں؟ مجھ سے پہلے جس نے بھی دنیا کو تر جیح دی دنیانے اسے نقصان پہنچا یا،۔۔۔۔۔۔ میں اسے کیوں پسند کرو ں ؟ یہ تو فنا ہوکر مٹ جائے گی، ۔۔۔۔۔۔ میں اس کی حرص کیوں رکھوں ؟کیونکہ میرا مسکن اورجائے قرار توکہیں اور ہے،۔۔۔۔۔۔ میں اس (دنیا کے چلے جانے )پرکیوں افسوس کروں؟ کیونکہ خدا عزوجل کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ میرے گناہوں کی وجہ سے میرے ساتھ کیاسلوک کیاجائے گا۔''
(حلیۃالاولیاء ، ۲۷۵، عون بن عبداللہ ، رقم ۵۵۹۳، ج۴ ، ص۲۸۵ َبتصرفٍ)
چالیس دن آگ نہ جلتی:
    حضرتِ سیِّدُتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ''چالیس چالیس دن ایسے گزرجاتے کہ نبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دو لت کدے میں چراغ اور آگ نہ جلتی تھی۔'' پوچھا گیا:'' پھر آپ کس طر ح گزارہ کرتے تھے ؟'' فرمایاکہ'' دو کالی چیزوں یعنی پانی اور کھجو ر پر۔''
(بخاری ،کتاب الرقاق ، باب کیف کان عیش النبّی   الخ ،رقم ۶۴۵۸ ، ج ۴ ، ص ۲۳۶بتغیر مّا)
تین خواہشات:
    حضرت سیدنا یوسف بن اسباط رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زوجہ سیِّدُتنا عائشہ بنت سلیمان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہافرماتی ہیں کہ'' یوسف بن اسباط رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے کہاکہ
Flag Counter