Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
155 - 303
میرے پیارے اسلامی بھائی ! 

    اس رب عزوجل کی قسم ! جس نے تجھے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے والا بنایا ہے، اس نے پورا عدل کیا ہے ، اے ابنِ آدم ! یاد رکھ کہ تو اکیلا ہی مرے گا اور اکیلا ہی اپنی قبر میں داخل ہوگا اور اکیلا ہی قبر سے نکلے گا اور تجھے اکیلے ہی (اپنے کئے کا)حساب دینا ہوگا، اے ابن آدم ! اگر تمام لوگ اللہ عزوجل کی اطاعت کرنے لگیں مگر تُواس کی نافرمانی کرے توان کی اطاعت تجھے کوئی نفع نہ دے گی۔
دین میں دنیا کی آمیزش :
     حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم ایک شخص سے ملے تو اس نے آپ سے پوچھا کہ'' اے ابو اسحق ! آپ کا کیا حال ہے ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب میں یہ اشعار پڑھے :
نُرَقِّعُ دُنیَانَا بِتَمْزِیْقِ دِیْنِنَا		فَلَادِیْنُنَا یَبْقٰی وَلَا مَا نُرَقِّعُ

فَطُوْبٰی لِعَبْدٍ آثَرَ اللہَ رَبَّہُ			وَجَادَ بِدُنْیَاہُ لِمَایَتَوَقَّعُ
ترجمہ:(۱) اپنے دین کونقصان پہنچاکر ہم اپنی دنیاسنوارتے رہتے ہیں ،یوں نہ تو ہمارا دین باقی رہتا ہے اور نہ ہی دنیاسنورتی ہے ۔

    (۲)خوشخبری ہے اس بندے کے لئے جس نے اللہ رب العزت عزوجل(کی عبادت)کو ترجیح دی اوراپنی دنیا کے ذریعے آخرت کوسنوارا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
دنیا سے دل کیوں لگاؤں؟
    حضرتِ سیِّدُنا عون بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ'' افسو س !
Flag Counter