| آنسوؤں کا دریا |
(۵)میں حیرت میں ہوں اپنے دل اورعبادت سے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے حالانکہ آج سے پہلے توان دونوں(یعنی عبادت ودل)میں بڑا قرب تھا۔
(۶)میں نے خود کوعبادت سے روک کرہلاکت اختیارکی ہے اور اپنی پیٹھ کوبھاری گناہوں سے بو جھل کرلیا ہے ۔
(۷)اورنافرمانی کرکے گویا میں نے اپنے ربِّ مُھَیْمِن عزوجل کوچیلنج کردیا جبکہ وہ انعام واحسان اور جو دو فضل والاہے ۔
(۸)میں اس کی پکڑسے ڈرنے کے ساتھ ساتھ اس کے عفوودرگزرکی امید بھی رکھتا ہوں اور میں اس بات کاپختہ یقین رکھتاہوں کہ وہ ہی انصاف فرمانے والاحاکمِ مطلق ہے ۔نصیحت:
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' اے ابن آدم ! تیرا اعمال نامہ لکھا جارہا ہے اورتجھ پر دو محترم فرشتے نگہبان ہیں، ان میں سے ایک تیرے دائیں اور دوسرا بائیں کندھے پر موکل ہے ،دائیں طر ف والا تیری نیکیاں اور بائیں طرف والا فر شتہ برائیاں لکھتا ہے ۔اب تُو جو چاہے عمل کر،تھوڑا کر یا زیادہ،جب تُودنیا سے رخصت ہوگا تو تیرا اعمال نامہ لپیٹ دیاجائے گا ،پھر جب قیامت کا دن آئے گا تو تجھے قبر سے نکال کر کہا جائے گا :
اِقْرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ14﴾
ترجمہ کنزالایمان :فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ (اعمال)پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے ۔(پ 15،بنی اسرائیل :14)