| آنسوؤں کا دریا |
میرا بڑھاپا مجھے بخش دو ۔''پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر تشریف لائے اور عبادت میں مصروف ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله عليه وسلم) چند اشعار
اَمِنْ بَعْدِ شَیْبٍ اَیُّھَا الرَّجُلُ الْکَھْلُ جَھِلْتَ وَمِنْکَ الْیَوْمَ لَایَحْسُنُ الْجَھْلُ تَحَکَّمَ شَیْبُ الرَّاْسِ فِیْکَ وَاِنَّمَا تَمِیْلُ اِلَی الدُّنْیَاوَیَخْدَعُکَ الْمَطْلُ دَعِ الْمَطْلَ وَالتَّسْوِیْفَ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَبَادِرْ بِجِدٍّ لَایُخَالِطُہُ ھَزْلُ سَاَبْکِیْ زَمَانًا ھَدَّنِیْ بِفَرَاقِہِ فَلَیْسَ لِقَلْبِیْ عَنْ تَذَکُّرِہِ شُغْلُ عَجِبْتُ لِقَلْبِیْ وَالْکَرَی اِذْ تَھَاجَرَا وَقَدْ کَانَ قَبْلَ الْیَوْمِ بَیْنَھُمَا وَصْلُ اَخَذْتُ لِنَفْسِیْ حَتْفَ نَفْسِیْ بِکَفِّھَا وَأَثْقَلْتُ ظَھْرِیْ مِنْ ذُنُوْبٍ لَھَا ثِقْلُ وَبَارَزْتُ بِالْعِصْیَانِ رَبًّا مُھَیْمِنًا لَہُ الْمَنُّ وَالْاِحْسَانُ وَالْجُوْدُ وَالْفَضْلُ اَخَافُ وَاَرْجُوْ عَفْوَہُ وَعِقَابَہُ وَاَعْلَمُ حَقًّا اَنَّہُ حَکَمٌ عَدْلُ
ترجمہ:(۱)اے بوڑھے شخص! کیابڑھاپا آنے کے باوجود بھی تُو جہالت میں مبتلاہے ؟ ، اب (اس عمر) میں تمہاری طرف سے جہالت کامظاہرہ اچھانہیں۔
(۲)تیرافیصلہ توسر کی سفیدی نے کردیامگرپھربھی تودنیاکی طرف مائل ہوتاہے اور ناپائیدار (دنیا) تجھے دھوکہ دے رہی ہے۔
(۳)ناپائیداردنیااور(اس پر) افسوس کرناچھوڑ دے ، کہ ایک دن تُوبھی مرنے والا ہے ،اور ایسے پختہ ارادہ کے ساتھ آگے بڑھ جس میں کسی بیہودہ پن کی آمیز ش نہ ہو۔
(۴)میں اس وقت کو روتا رہوں گا جس نے مجھے اس (محبوب)کے فراق میں مبتلا کردیا ، حالانکہ اس کی یادسے دوری میرے دل کامشغلہ نہیں۔