Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
152 - 303
غفلت اور خواہشاتِ نفس کا علا ج
     اے اپنے اصل ٹھکانے سے بے خبر شخص! اے گناہوں میں منہمک ہوکر دنیا ہی کواپنا اصل ٹھکانا سمجھ لینے والے ! باہمت لوگ تجھ سے آگے نکل گئے اور تُو بحرِ غفلت میں غوطہ زن ہے ،اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سوغاتِ ندامت لیکر حاضر ہوجا اور سر کو جُھکا کر اپنی سرکشی کا اقرار کر اور سحری کے وقت یوں مناجات کر کہ'' یاالٰہی عزوجل! میں گنہگار، رحم کا طلبگار ہوں ۔''اور نیک لوگوں سے مشابہت اختیار کر اگر چہ تُونیک نہیں مگر نیکوں کی مشابہت کرتے ہوئے ان جیسا بن جا، اپنے گناہوں پر اشکوں کی برسات کر ، رات میں عبادت کے لئے کھڑا ہوجااور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کر۔ اپنی زندگی میں سے کچھ وقت آخرت کے لئے نکال ، دنیا کے کھیل تماشے چھوڑ دے اور اگر تُو آخرت کاطلبگار ہے تو دنیا کو طلاق دیدے ،اے لمبی نیند سو نے والے ! قافلہ ، روانہ ہوگیا ساری قوم محو ِسفر ہے جبکہ تو ابھی تک نیند سے بیدا ر نہیں ہوا ۔
خلوت نشین بزرگ:
     حضرتِ سیِّدُنا ایاس بن قتا دہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی قوم کے سردار تھے ۔ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا تو دعا کی :'' یا اللہ عزوجل! میں اچانک ہونے والے حادثات سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں ، مجھے معلوم ہے کہ موت میری تاک میں ہے اور میں اس سے بچ نہیں سکتا۔'' پھر وہ اپنی قوم کے پاس تشریف لے گئے اورفرمانے لگے:'' اے بنو سعد ! میں نے اپنی جوانی تم پر وقف کر دی تھی اب تم
Flag Counter