Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
151 - 303
پاس جانے لگا تو دروازے پررُک گیااور اس کا نام لے کر اسے پکارا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ میں نے پھر سے پکارا:'' اے فلانی! کیا تو گونگی ہے (کہ جواب نہیں دے رہی)یا بہری کہ سنتی نہیں ؟'' تو اس نے جواب دیا :''اے صحابئ رسول ! میں نہ توگونگی ہوں اورنہ ہی بہری مگر نئی نویلی دلہنیں بولنے سے حیاکرتی ہیں۔'' جب میں اندر داخل ہو اتو دیکھا کہ گھر میں پردے لگے ہوئے ہیں ،قیمتی سامان سجا ہوا ہے اورریشمی کپڑے موجود ہیں ۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا :''اے فلانی! کیا تیرے گھر کو بخار ہوگیا ہے تو نے اسے اتنے کپڑے اوڑھارکھے ہیں یا پھرخانہ کعبہ کندہ قبیلے میں آگیا ہے ؟ ''تو اس نے جواب دیا:'' ایسی بات نہیں بلکہ دلہنیں اپنے گھر کو سجایاکرتی ہیں۔'' 

    پھرمیں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو خادم کھانا لئے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے کہا کہ'' میں نے حضورِپاک ،صاحبِ لولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' جونرم وملائم بستر پرسوئے اور لباسِ شہرت پہنے اور عالیشان سواری پر سوار ہو اور من پسند کھانے کھائے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا ۔'' میر ی زوجہ کہنے لگی''اے صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ ! میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گواہ بناتی ہوں کہ ''اس گھر میں جوکچھ ہے سب راہِ خدا عزوجل میں صدقہ ہے اور میرے تمام غلام راہِ خدا عزوجل میں آزاد ہیں ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے تھوڑی سی گندم لادیجئے، میں گھر کے کام کاج بھی خود ہی کرلیا کرو ں گی ۔''میں نے اس سے کہا :'' اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے اور تیری مددکرے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)