Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
150 - 303
    (۵)اے زمانے !تیری خیر(بھلائی) ہمیشہ نہیں رہتی ،تیرے شرکی وجہ سے ہمیں زیادہ بہتریہ ہے کہ تجھ سے اتناحصہ لیں جوکم اورکافی ہوجائے ۔
دنیا کو ٹھکرانے والے:
    حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' میں ایسے ایسے نیک لوگوں کی صحبت میں رہا جن میں سے بعض حضرات پر پچا س پچا س ایسے سال گزر گئے کہ انہوں نے نہ کبھی اپنے لئے بستر بچھائے اور نہ کبھی آرام کے لئے چادریں تہہ کیں اورنہ ہی کبھی گھر سے کھانا پکوایا ، ان میں سے کوئی ایک لقمہ ہی کھاتامگرپھر بھی اس کی خواہش ہوتی کہ اس لقمے کی جگہ اپنے منہ میں پتھرڈال لیتا ،نہ تو وہ دنیا ملنے پر خوش ہوتے اورنہ اس کے چلے جانے پر غمزدہ ہوتے، تم جس مٹی کو اپنے پیرو ں تلے روندتے ہو ان کے نزدیک دنیا کی حقیقت اور حیثیت اس مٹی سے بھی کم تھی ۔ ان کے بالکل قریب میں حلال مال ہونے کے باوجود جب ان میں کسی سے کہا جاتا کہ'' اس میں سے قدرِ کفایت ہی لے لیں۔'' تو جواب ملتا:'' خدا عزوجل کی قسم! میں ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ مجھے خوف ہے کہ اگر میں نے اس میں سے کچھ لے لیا تو یہ میرے دل ودین کے بگاڑ کا سبب بن جائے گا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
سعادت مند دُلہن:
    حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ'' میری شادی ''کندہ قبیلے'' کی ایک عورت سے ہوئی جس کا نام صواب تھا۔ جب میں دُلہن کے
Flag Counter