حضرتِ سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ ''میں پہاڑوں سے لکڑیاں جمع کر کے لاتا اور انہیں بیچ کر اپنی گزر بسر کیاکرتا تھا ۔میں تلاشِ معا ش میں حلال وحرام کوضرورپیش نظر رکھتا تھا ۔ایک مرتبہ میں نے اولیائے بصر ہ کی ایک جماعت کو خواب میں دیکھا ۔ان میں حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری ، حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار اور حضرتِ سیِّدُنا فرقد سبخی رحمہم اللہ تعالیٰ بھی تھے۔ میں نے ان سے عرض کی: ''اے ائمہ مسلمین ! مجھے ایسی حلال روزی بتائیے جس کا اللہ عزوجل کو حساب نہ دینا پڑے اور نہ ہی مخلوق کا احسا ن اٹھا نا پڑے۔'' تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے طرطوس شہر سے مرج نا می بستی میں لے گئے وہاں ایک خُبَّازِی(چوڑے پتوں والی ایک بوٹی جوساراسال پھل دیتی ہے ) تھی، اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ'' یہ ہے وہ حلال شے جس پر اللہ عزوجل تجھ سے حساب نہ لے گا اور نہ ہی تمہیں اس میں مخلوق کا احسا ن اٹھا نا پڑے گا۔'' حضرتِ سیِّدُنا سلیمان دارنی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ'' میں ایک طویل مدت تک کچی اور پکی خبازی کھاتا رہا یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے میرے دل کو پاک کردیا، میں نے سوچا اگر جنتیوں کو میرے جیسا دل عطا ہوجائے تو اللہ عزوجل کی قسم! وہ خوش ہوجائیں گے۔''
ایک دن میں شہر کے دروازے کی طرف نکلا وہاں میں نے ایک نوجوان کو شہر میں داخل ہوتے دیکھا ۔لکڑیاں بیچنے کے ایام کے کچھ سکے میرے پاس رکھے ہوئے تھے ۔میں نے سوچا کہ وہ سکے اس اجنبی کودے دیتا ہوں تاکہ یہ انہیں اپنی