ضروریات میں استعمال کرے ۔جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے اسے سکے دینے کے لئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ مجھے اس کے ہونٹ ہلتے ہوئے دکھائی دئیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرے آس پاس کی زمین سو نے اور چاندی میں تبدیل ہوگئی جس کی چمک سے میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں ۔
کچھ دن بعد میں دوبارہ اس طرف گیا تو میں نے اسی نوجوان کو ایک جگہ بیٹھے دیکھا ۔ اس کے سامنے پانی سے بھرا ایک پیالہ رکھا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا اور گفتگو کرنا چاہی تو اس نے پانی سے بھر اپیالہ پلٹ دیا اور کہا کہ زیادہ بولنا نیکیوں کو اس طر ح چو س لیتا ہے جس طر ح یہ زمین پانی کو چو س گئی ہے، تیرے لئے اتنی ہی بات کافی ہے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)