Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
145 - 303
ضروریات میں استعمال کرے ۔جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے اسے سکے دینے کے لئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ مجھے اس کے ہونٹ ہلتے ہوئے دکھائی دئیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرے آس پاس کی زمین سو نے اور چاندی میں تبدیل ہوگئی جس کی چمک سے میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں ۔

    کچھ دن بعد میں دوبارہ اس طرف گیا تو میں نے اسی نوجوان کو ایک جگہ بیٹھے دیکھا ۔ اس کے سامنے پانی سے بھرا ایک پیالہ رکھا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا اور گفتگو کرنا چاہی تو اس نے پانی سے بھر اپیالہ پلٹ دیا اور کہا کہ زیادہ بولنا نیکیوں کو اس طر ح چو س لیتا ہے جس طر ح یہ زمین پانی کو چو س گئی ہے، تیرے لئے اتنی ہی بات کافی ہے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
عروج وزوال :
    قاضی کوفہ محمد بن غسان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں کہ'' عید ِقربان کے دن میں اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے وہاں پھٹے پرانے بو سیدہ کپڑے پہنے ہوئے ایک بڑھیا کو دیکھا ۔مجھے اس کا اندازِ گفتگو بہت اچھا لگا ۔میں نے اپنی والدہ سے پوچھا :''یہ عورت کون ہے ؟'' فرمایا :''یہ تمہاری خالہ عانیہ ہے جو ہارو ن رشید کے وزیر جعفر بن یحیٰ بر مکی کی ماں ہے ۔''

    میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا ۔میں نے ان کی خیریت دریافت کی پھر پوچھا کہ'' آپ کی یہ حالت کیونکر ہوئی؟'' تو انہوں نے فرمایا : '' بیٹا ہم نے غفلت میں زندگی گزاری اوروقت ضائع کرنے میں لگے رہے تو
Flag Counter