Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
140 - 303
اور اپنی زبان سے اچھی گفتگو اور اللہ عزوجل کا ذکر کیا کرو اور زندگی کے ایام میں قلیل غذا پر قناعت کرو اوردارِ غفلت(یعنی دُنیا)سے اپنی تو جہ ہٹا لو اور دنیا میں عزمِ مصمم کے ساتھ قناعت پسند زندگی گزارو ،قیامت کے دن بے خوف ہوکر آؤ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اللہ عزوجل کے مہمان بن جاؤ ۔''

    یہ باتیں سن کر محل کے مالک نے اپنی کنیز کو پکاراتو وہ بولی : ''لبیک میرے آقا !'' اس نے پوچھا کہ'' تو نے ان کی باتیں سنیں ؟'' کنیز نے کہا:'' جی ہاں۔'' پوچھا : ''یہ سچے ہیں یاجھوٹے ؟ ''جواب دیا:'' خدا کی قسم ! یہ بالکل سچے ہیں۔'' یہ جواب سن کر آقا کہنے لگا:'' پھر تُو اللہ عزوجل کے لئے آزاد ہے اور میری فلاں فلاں جائیداد تم پر صدقہ ہے اور میرا یہ گھر تمام سازو سامان کے ساتھ فقرا ء اور مساکین پر صدقہ ہے ۔'' پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کا پر دہ اُتارا اور اس سے اپنی سترپوشی کی اور اپنا قیمتی لباس اتار ڈالا۔جب کنیز نے یہ سارا معاملہ دیکھا تو کہنے لگی: '' میرے آقا ! تیرے بعد میری کوئی زندگی نہیں ۔''اور شان وشوکت ترک کر کے اپنے آقا کے ساتھ ہی جانے کی درخواست گزار ہوئی ۔حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینا ر علیہ رحمۃ اللہ الغَفَّار نے انہیں الوداع کیا اور ان کے لئے دعا فرمائی ۔ وہ اپنے راستے پر چل دئیے اور حضرتِ سیِّدُنا مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی راہ پکڑی ۔پھر یہ دونوں مرتے دم تک اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول رہے ۔ 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)