Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
139 - 303
تیرے بعد جو بھی اس کا آقا بنے گا یہ اسے تیری طر ح سمجھنے لگے گی ، مگر میں ایک ایسی کنیز کو جانتا ہوں جو ان تمام عیبوں سے پاک ہے اسے کافور کے خمیر سے پیدا کیاگیا ہے، اگر اس کا لعاب کھارے پانی میں ڈالا جائے تو وہ میٹھا ہوجائے ،اگر وہ کسی مُردے کو آواز دیکر پکارے تو مردہ بول اٹھے، اگر وہ اپنی کلائی سورج پر ظاہر کردے تو اُس کی روشنی ماند پڑجائے او راگر اس کی کلائی رات کی تاریکی میں ظاہر ہو تو ہر طرف اس کا نور چمک اٹھے ،اگر اپنے لباس اور زیورات کا رخ آسمان کی طر ف کردے تو سب کو چمکا دے ، اگر اس کی زُلفوں کی خوشبو زمین پر پھیل جائے تو زمین اور اس کی تمام اشیاء کومہکا دے، وہ معطر ہے ، حسین ہے ، ناز نین ہے ، اَن گنت خوبیوں سے آراستہ ہے ، وہ مشک وزعفران کے باغات میں پروان چڑھی اور تسنیم کے چشمے سے سیراب ہوئی ہے، وہ کبھی شکستہ دل نہ ہوگی، اس کی رونق ختم نہیں ہوگی، نہ اس کا عہد ٹوٹے گا ،نہ ہی اس کی محبت تبدیل ہوگی اور نہ ہی کبھی بدن کمزور ہوگا ۔''

    یہ فرمانے کے بعد حضرت سیدنا مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس شخص سے سوال کیا:''اے دھوکے میں مبتلا ہونے والے ! اب تُو ہی بتاکہ ان دونوں میں سے کونسی کنیز زیادہ اہم ہے ؟'' وہ بولا:'' خدا کی قسم ! وہی کنیز عُمدہ ہے جس کے اوصاف آپ نے بیان فرمائے ہیں، اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ،اس کی قیمت کیا ہے ؟ ''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرما یا:'' تھوڑی سی کوشش،(وہ اس طرح کہ)رات کے کسی حصے میں بیدار ہو کر اخلاص کے ساتھ اپنے رب عزوجل کے لئے دو رکعت نفل نمازاداکر لیاکرو اور جب تمہارے سامنے کھانا آئے تو بھوکے کو یاد کر کے رضائے الٰہی عزوجل کے لئے اسے اپنی خواہش پرترجیح دے دیا کرو او رراستے سے گزرتے ہوئے پتھر اور کانٹے ہٹا دیا کرو