مالک کہنے لگا:''کیا آپ کے پاس اسے خریدنے کے لئے مال ہے؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دریافت کیا: ''اس کی قیمت کیاہے ؟ ''وہ شخص بولا کہ اس کے حسن وجمال اورشان وشوکت کی قیمت ہزاروں میں ہے ۔''حضرتِ سیِّدُنامالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''خداعزوجل کی قسم ! میرے نزدیک تو اس کی قیمت کھجور کی دو بوسیدہ گٹھلیوں کے برابر ہے۔'' اس جواب پر اس شخص کی ہنسی نکل گئی ۔ پردے میں موجود وہ کنیز اور دیگر خادم بھی ہنسنے لگے۔
حضرتِ سیِّدُنا مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تعجب سے پوچھا: ''کیوں ہنس رہے ہو؟'' وہ شخص بولا :'' آپ نے اس کنیز کی قیمت اتنی کم کیوں لگائی ہے؟'' حضرتِ سیِّدُنا مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اس لئے کہ اس میں بہت زیادہ عیب ہیں۔'' اس نے پوچھا : '' آپ اس کے عیوب کیسے جانتے ہیں ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ ''میں اس کے اتنے عیوب جانتا ہوں جتنے تم بھی نہیں جانتے ۔''وہ بولا کہ'' ان عیوب سے مجھے بھی آگاہ کیجئے ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عیوب گنوانا شروع کئے،چنانچہ فرمایا:'' اگر یہ عطر نہ لگائے تو اس کے کپڑوں سے بد بو آنے لگے، اگر مسواک نہ کرے تو منہ سے بُو آنے لگے ،اگر غسل نہ کرے تو میلی کچیلی ہوجائے ،اگر بالو ں میں کنگھی نہ کرے تواِن میں جوئیں پڑجائیں اور یہ پرا گندہ سر ہوجائے، کچھ عمر گزرنے کے بعد یہ بوڑھی نظر آنے لگے گی ، اسے نزلہ اور بخاربھی ہوتا ہے ،تھوک ، بلغم ، حیض اورپیشاب وپاخانہ سے اس کا واسطہ پڑتا ہے اور ان کے علاوہ بھی یہ بہت سی مصیبتو ں اور آفتوں کا شکار ہے ، یہ تجھ سے صر ف اس لئے محبت کرتی ہے کہ یہ تجھ سے نفع اٹھائے اور تُو اس سے نفع اٹھائے ،یہ تیری وفادار نہیں اورنہ ہی تجھ سے وعدۂ محبت میں سچی ہے بلکہ