اور بوڑھا فقیر ملاجس نے بوسیدہ لباس پہن رکھا تھا ، جب اس نے میرا حسن وجمال، میری شان وشوکت اور میرے خُدّام کو دیکھا تو حیران ہو کر رہ گیا اور مجھ سے کہنے لگا : ''کیا تیرا آقا تجھے بیچے گا؟'' کنیز کا آقا یہ بات سن کر ہنس دیا اور اس سے پوچھا:'' وہ بوڑھا کہاں ہے؟'' کنیز بولی:'' میں اسے اپنے ساتھ لے آئی ہو ں اوروہ اس وقت محل کے دروازے پر کھڑا ہے۔'' آقا نے کہا'' اسے میرے پاس لے آؤ۔''
جب حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغَفَّار اس بادشاہ کی نشست گاہ کے دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ کمرہ انواع واقسام کے قالینوں اور تکیوں سے آراستہ ہے اور محل کا مالک ایک اونچی جگہ بیٹھا ہوا ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا مالک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ رُک کر اس کی طر ف دیکھنے لگے ۔ اس شخص نے پوچھا:''کیا ہوا اے شیخ ،اندر آجاؤ۔'' حضرتِ سیِّدُنا مالک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بولے: ''جب تک تم یہ قالین نہیں اٹھاؤ گے او راس کے فتنے کو مجھ سے دور نہیں کروگے میں اندر نہیں آؤں گا ۔'' اللہ عزوجل نے محل کے مالک کے دل میں ان کا ایسارعب اورہیبت ڈال دی کہ اس نے قالین اور تکیے اٹھانے کا حکم دے دیا یہا ں تک کہ سنگ مر مرکافر ش نظر آنے لگا ۔پھر وہ شخص ایک کرسی پر بیٹھ گیا او ر بولا: ''اے شیخ ! جہاں چاہیں تشریف رکھیں۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ'' خداعزوجل کی قسم ! جب تک تم کرسی سے اتر کراس فر ش پر نہیں بیٹھو گے میں نہیں بیٹھوں گا۔'' چنانچہ وہ شخص فر ش پر بیٹھ گیا اور حضرتِ سیِّدُنا مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اس کے قریب تشریف فرماہوگئے ۔
وہ شخص بولاکہ'' اپنی حاجت ارشاد فرمائیے۔'' حضرتِ سیِّدُنا مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''ابھی تمہاری جو کنیز محل میں آئی ہے کیا تم اسے بیچو گے ؟'' یہ سُن کرگھر کا